خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد 14 907 کیا عجب تو نے ہر اک ذرے میں رکھے ہیں خواص خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء (در مشین : 10 ) کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتران اسرار کا تو نے کیسے عجیب خواص ہر ذرے میں رکھ دیئے ہیں ہر ایٹم میں ہر چھوٹی چیز میں ” کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتران اسرار کا کہ ایک ذرے پر بھی نظر ڈال کے دیکھو تو اس کے اندر ایک اسرار کا عالم ہے۔کون ہے جو اس سارے عالم پر محیط ہو سکے اور سب کا نظارہ کر سکے۔اور یہ بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی اس وقت تک ایٹم کی توانائی اور اس کے اسرار کی بات لوگ سنتے نہیں تھے۔ابھی یہ بات عام گفتگو میں داخل ہی نہیں ہوئی تھی۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ کے نور سے دیکھ رہے تھے اس لئے آپ نے اس حقیقت کو جان لیا یعنی قرآن کے نور سے اور محمد اللہ کے نور سے کہ خدا نے جو کچھ بھی پیدا کیا اس کا ذرہ ذرہ ایک نور ہے جو خدا کا حجاب ہے اور حجاب کا نور ہونا میرے نزدیک یہی معنی رکھتا ہے جو اس کے پیچھے ہے اس سے چمک رہا ہے اور کثیف سے کثیف بھی ہو تو جو اس کے پیچھے جلوہ گر ہے اتنی شان کا جلوہ گر ، اتنی قوت سے جلوہ گر ہے کہ ہر حجاب اس کے چہرے کا نور بن گیا ہے۔پس اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو بے اختیار کہتے ہیں ”کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا اور یہی مضمون ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا۔حجابه النور تو اس کے چہرے کا نقاب ہے۔لو کشفہ اگر وہ اپنا چہرہ دکھا دے لا حرقت سبحات وجهه ما انتهى اليه بصره من خلقہ تو اس کے چہرے کا جلال اور اس کی چمک دمک اس کا جلوہ تا حد نظر ہر مخلوق چیز کو جلا کر رکھ دے۔پھر صحیح بخاری میں ایک اور بڑی حدیث ہی بہت گہری اور آسمانوں کی سیر کرانے والی ہے مگر اس کا جس کا نور سے تعلق یہ حدیث بھی ایک خاص لطف اپنے اندر رکھتی ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے صحیح بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا انتبه با لیل‘اس کا ترجمہ میں آپ کے سامنے پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی خاله ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے ہاں رات بسر کی۔رسول اللہ ﷺ نے رات کو اٹھ کر وضو کیا اور نماز تہجد ادا کی اور آپ یہ دعا پڑھتے تھے اے اللہ میرے دل میں نور پیدا کر