خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 906 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 906

خطبات طاہر جلد 14 906 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء یہ حجاب کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں اور پھر ساری نظم نور ہی کی نظم ہے اور سب حجاب کی باتیں ہیں پر حجاب پر غور کرو تو وہ حجاب نور دکھائی دے رہا ہے حالانکہ ہے حجاب۔پس اللہ تعالیٰ کا جونور ہے وہ ایک ایسا حجاب ہے یا اللہ کا حجاب ایسا نور ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ نور ہوتا ہے اور خدا نہیں کیونکہ خدا اس نور کے پردے کے پیچھے ہے۔پس ہر چیز جو نور دکھائی دیتی ہے وہ ایک پردہ ہے اور جو پردہ زیادہ لطیف ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے پر لی طرف خدا دکھائی دے گا۔ان معنوں میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کا پردہ کیونکہ سب سے زیادہ شفاف تھا اس لئے فرمایا گیا کہ وہ مثال ہے اللہ کے نور کی۔اگر قریب تر کوئی چیز دیکھنی ہے تو اس پر دے کو دیکھو اس میں سے خدا کے نور کی زیادہ جھلکیاں دکھائی دیں گی۔ورنہ ہر دوسرا پر دہ جونسبتا کثیف ہے وہ اتنی زیادہ شان کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ خدا کے نور کو ظاہر نہیں کر سکتا۔پھر فرمایا نور کا حجاب خدا نے کیوں اوڑھا ہوا ہے۔لو كشفه لا حرقت سبحات وجهه ما انتهى اليه بصره من خفته اگر خدا اپنے نور کا پردہ اٹھا دے تو اس کے چہرے کے جلوے، اس کی سبحات ، اس کی جھلکیاں ہیں وہ حد نظر تک ہر مخلوق کو مٹاکر ، جلا کر رکھ دیں، کوئی بھی چیز اس کو دیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتی اور ہر چیز جل کر خاک ہو جائے۔اس لئے یہ پردہ محض ایسے حجاب کے طور پر نہیں کہ کوئی انسان اپنے عاشق سے چھپنا چاہتا ہے اور پوری طرح کھلے دل کے ساتھ اپنے محبوب کو نظارہ نہیں کروانا چاہتا یہ اور معنی رکھتا ہے۔یہ معنی رکھتا ہے کہ اے میرے عاشق میں تجھ سے اتنا پیار کرتا ہوں کہ تجھے ہلاک نہیں کرنا چاہتا، تجھے اپنا اتنا ہی نظارہ دکھاؤں گا جتنا تجھے برداشت کرنے کی استطاعت ہے۔اس سے اگر آگے دکھایا تو پھر یہ مجھ پر ظلم ہوگا۔دیکھنے والا ہی کوئی باقی نہیں رہے گا۔پس حضرت موسیٰ سے جو طور پر سلوک ہوا تھا وہ اسی مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کنجوسی کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔خدا تعالیٰ تو ہر ایک کو اپنا وجود دکھانا چاہتا ہے مگر اس کا نور یا اسکی ذات جو ہے وہ ایک نا قابل فہم جلوہ ہے۔ہمارے لئے جس تک ہمارے تصور کی بھی رسائی نہیں ہے جس کا پردہ جگمگا اٹھے ایک یہ بھی معنی ہے " حجابه النور‘ کہ اس کا پردہ تو ہر جگہ جگمگا رہا ہے وہ خود کیا ہوگا۔جدھر بھی نظر ڈالو وہاں اس کی روشنی دکھائی دیتی ہے لیکن نظر میں نور ہو تو دکھائی دیتی ہے اگر نظر میں نور ہو تو کائنات کے ذرے ذرے میں اتنا نور دکھائی دیتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔