خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 894 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 894

خطبات طاہر جلد 14 894 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء بس یہی حال نور بننے کا ہے۔کسی ایک صفت کو اگر آپ اچھا سمجھیں اور واقعہ دل کی گہرائی سے اچھا سمجھیں تو اسے اپنانے کی لگن لگ جائے گی۔اللہ تعالیٰ کے حوالے سے براہ راست ہم ان صفات کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں۔مگر یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ خدا کی جوصفات ہم سے بہت ہی بالا، بہت ہی دور واقع ہوئی ہیں جہاں تک انسانی عقل کا تعلق ہے ،نزدیک ہیں سمجھنے کے اعتبار سے، دور ہیں اپنانے کے اعتبار سے نزدیک ہیں اس اعتبار سے کہ خدا نے خود انہیں ہم پر ظاہر فرما دیا۔دور ہیں اس اعتبار سے کہ ظاہر ہونے کے باوجود ہم ان کی کنہ کو نہیں سمجھ سکتے۔اس سفر کو آسان کرنے کے لئے حضرت محمد مصطفی کے کونور کی مثال بنا کے دیا گیا۔فرمایا یہ دیکھ لو۔اس طرح میرا نور ایک انسان میں اپنے کمال کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔یہ یہ باتیں کرنی پڑتی ہیں۔یہ اخلاق اپنانے پڑتے ہیں۔یہ اعتدال واقع کرنا پڑتا ہے اپنی طبیعت میں۔یہ تم کرو تو تم بھی ویسے ہی ہو جاؤ گے۔یہ ایک فرضی دعوی نہیں۔یہ دعوی اس لئے بھی ضروری تھا کہ شرک کا کوئی شائبہ بھی اسلامی تعلیم میں باقی نہ رہے۔اگر خدا تعالیٰ نہیں بات ختم کر دیتا کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ اور مَثَلُ نُورِہ آگے بات محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ پر جا کے کھڑی کر دیتا تو دنیا میں ایک اور قسم کا شرک پیدا ہوتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں جو صفات باری تعالیٰ سے ایسی یگانگت رکھتے تھے کہ انہیں اپنا سکتے تھے اور کوئی بشر ایسا نہیں جو ایسا کر سکے۔تو وہ اپنی ذات میں خواہ آپ خدا کا شریک نہ بھی کہیں مگر شرک کا ایک مضمون ضرور دماغ میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔قرآن کریم جو حکیم کتاب ہے اور روحانی طب میں اس سے اعلیٰ درجہ کی مرض شناس کتاب اور کوئی واقع نہیں ہوئی کبھی پیدا نہیں ہوئی یعنی انسان کو کبھی عطا نہیں ہوئی۔اس آیت کے معا بعد فرماتا ہے۔في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُقِ وَالْأَصَالِ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا نور ایسی مثال نہیں تھی کہ تم اپنا نہ سکو۔اس غرض سے نہیں تھی کہ اسے انسانوں سے الگ کر کے دکھایا جائے۔اس غرض سے تھی کہ انسان کو بتایا جائے کہ تمہاری صلاحیتیں کیا کیا ہیں، تمہاری رسائی کہاں کہاں تک ہے۔تمہی میں سے وہ شخص پیدا ہوا ہے یعنی محمد رسول اللہ اللہ جنہوں نے نور کی تحصیل میں یہ کمال دکھا دیا ہے۔درجہ کمال کو پہنچ گیا ہے اور تم اگر چا ہو تو اس نور کی پیروی سے اسی طرح نور سے حصہ پاسکتے ہو اور صرف تعلیم نہیں دی فرمایا یہ نور جو ایک دل پر اترا تھا ، جس دل میں جلوہ گر ہوا تھا اب دیکھو کہ محمد رسول اللہ اللہ کے فیض سے اور آپ کی