خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 827 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 827

خطبات طاہر جلد 14 827 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء مثالی تصویروں سے کرتے رہنا چاہئے اور یہ دیکھتے رہنا چاہئے کہ ہم زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ ان تصویروں کے قریب آ رہے ہیں یا ان سے دور ہٹ رہے ہیں۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک الفاظ میں مالی قربانی کی تحریص کا تعلق ہے۔میں ایک دو اقتباسات حضرت اقدس کے پڑھ کے سناتا ہوں پھر وہ جو جماعتی موازنہ ہے وہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اس مال عزیز کو ترک کرتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدار اور معیشت کا انحصار ہے اور جو محنت اور تکلیف اور عرق ریزی سے کمایا گیا ہے تب بخل کی پلیدی اس کے اندر سے نکل جاتی ہے۔۔۔اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کو دوبارہ غور سے سنیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ محض مالی قربانی کی بات نہیں کر رہے۔آپ ایسی مالی قربانی کی بات کر رہے ہیں جس کا اثر بنیادی ضروریات تک پہنچتا ہے، جس کی آواز اس دکھ میں محسوس ہوتی ہے جو انسان اپنی ضرورت کی چیز قربان کرتے وقت ویسے محسوس کرتا ہے۔وہاں تک جب تک قربانی کی دھمک نہ پہنچے اس وقت تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس قربانی نے بخل کی ہر پلیدی کو اندر سے نکال پھینکا ہے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو محض سطحی نظر سے دیکھنے سے آپ کچھ بھی نہیں سمجھ سکتے۔بار بار پڑھنے کا اس لئے ارشاد ہے کہ غور کریں تو پھر آپ کو اس کا پیغام سنائی دینے لگے گا اور جب وہ روشن ہوتا ہے تو اس کے ساتھ دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔فرمایا: وو۔۔۔اپنے اس مال عزیز کو ترک کرتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدار اور معیشت کا انحصار ہے اور جو محنت اور تکلیف اور عرق ریزی سے کمایا گیا ہے۔۔۔66 اکثر وہ امراء یا درمیانے درجے کے لوگ بھی جو روز مرہ کی زندگی کی ضرورتوں کے معاملے میں پریشان نہیں رہتے ان کے پاس کچھ مال بچ جاتا ہے۔وہ جب مالی قربانی کرتے ہیں اس کے ثواب سے تو خدا ان کو کبھی محروم نہیں رکھے گا۔اگر جذ بے نیک ہیں تو اس کا ثواب ضرور عطا ہوگا۔مگر