خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 824
خطبات طاہر جلد 14 824 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء مزاج کے مطابق نہیں رہتا پھر جیسا کہ مجبوریاں ہیں مثلاً آنکھ کے حسن کا اظہار تو ہو گا ہی اگر چہ اس کے پیچھے وہ رگیں پوشیدہ ہیں جن کے بغیر آنکھ بے کار ہے، وہ دماغ پوشیدہ ہے جس کے بغیر ان رگوں کا نظام بے کار ہو جاتا ہے، وہ دماغ کے اندرونی رابطوں کا نظام ہے جو نظر میں نہیں آتا تو آنکھ میں جو ظاہر ہے اس سر کا پہلو بہت زیادہ ہے۔کان میں بھی جو ظاہر ہے سر کا پہلو بہت زیادہ ہے۔زبان میں بھی جو بولتی ہے وہ مخفی اسرار اور علامات جو زبان کے بولنے کے نظام کے پیچھے کام کر رہے ہیں وہ دکھائی نہیں دیتے نہ وہ سنائی دیتے ہیں۔تو اسی طرح خدا کے بندے جب خدا کی طرف حرکت کرتے ہیں اور نسبتاً کم مملوک ہوتے ہوئے زیادہ مملوک بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی غلامی سے آزاد ہو کر ان کی زنجیریں اتار رہے ہوتے ہیں اور اللہ کی رضا کی زنجیروں کے لئے اپنے ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں یہاں تک کہ یہ سفر کامل طور پر ان کو خدا کا مملوک بنادیتا ہے۔ان کے متعلق پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عباد الرحمن۔اب وہ صفات دیکھیں جو عباد الرحمن کی ہیں۔لفظ عباد وہی استعمال فرمایا جارہا ہے جو خدا کے سب بندوں پر استعمال ہوتا ہے لیکن وہ صفات مخصوص ہیں ان عباد کی جو طوعی طور پر خدا کے عبد بنتے ہیں۔مجبور اسب عبد ہیں ہی لیکن مجبوری کی غلامی ، صفات حسنہ جو خدا کی طرف سے بندے میں منتقل ہوتی ہیں ان کی راہ میں روک بن جاتی ہیں۔مجبوری کی غلامی کا مطلب یہ ہے کہ دل کسی اور کا غلام ہے اور خدا کے رستے میں ہم مجبور ہیں وہی مالک ہے اس کی مرضی کے خلاف کچھ کر ہی نہیں سکتے۔اس لئے وہ جو خدا کی صفات حسنہ یا اسماء کا ایک بہاؤ ہے خدا کی طرف سے بندے کی طرف وہ عبادالرحمن کے سوا دوسرے بندوں کو نہیں پہنچتا سوائے اس کے جو فیض عام کی صورت میں ہر مخلوق کو حاصل ہی ہے۔وہ حاصل نہ ہو تو کوئی سفر اس کی جانب ہو ہی نہیں سکتا۔تو ایسی صورت میں اپنے خرچ کو دیکھ کر اس سے بھی اپنی ذات کو پہچانا جا سکتا ہے۔اپنے خرچ کے انداز کو دیکھ کر اس کے آئینے میں بھی انسان معلوم کر سکتا ہے کہ میں اپنی روح کی کیا شکل بنا رہا ہوں اور پھر پہلے اور بعد کے مواز نے سے انسان یہ معلوم کر سکتا ہے کہ میرا سفر خدا کی سمت ہے یا خدا سے دور ہے۔پس خرچ کرنے والا اگر آخری عمر میں جا کر اپنے خرچ سے تھک رہا ہو اس کی طبیعت پہ خرچ کی صورت میں زیادہ بوجھ پڑنے لگا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے خدا کی غلامی کی زنجیریں بھاری