خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 823
خطبات طاہر جلد 14 823 خطبہ جمعہ 3 رنومبر 1995ء ہو، ہونٹ ہوں متوازن ہوں تو یہ بھی ایک جہری انعام ہے، یہ سری انعام نہیں۔مگر انسان بسا اوقات اللہ کی نعمتوں کو ، ان کے جھر کو بھی سر میں بدل دیتا ہے۔خیال ہی نہیں کرتا ان کا لیکن جب ایک انسان کے ہاں مثلاً ایک معذور بچہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے ناک کے اندر ایک پردہ نہیں تو آواز ہی ناک سے نکلتی ہے اور ساری زندگی کے لئے وہ آواز اسے اپنی اس نعمت کا احساس دلاتی ہے جو اسے میسر ہے پہلے خیال ہی نہیں آتا تھا۔تو ایک بگڑی ہوئی آواز ایک صحت مند آواز کے حق میں بولتی ہے اور بتاتی ہے کہ کتنا بڑا انعام تھا جو جہری انعام تھا جس سے تم نے آنکھیں بند رکھیں اور اپنے کان بند رکھے۔تو یہ نظام ہے اللہ تعالیٰ کی عطا کا۔تو جو اس کے بندے ہیں انہوں نے اسی سے آخر زندگی کی رمزیں سیکھنی ہیں، زندگی کی ادائیں سیکھنی ہیں۔پس خدا کے پاک بندے بھی سرا بھی نیکیاں کرتے ہیں اور جھرا بھی کرتے ہیں۔اور یہ عجیب لطف کی بات ہے کہ جتنا خدا سے دور ہو لیکن خدا کی طرف حرکت کر رہا ہو اس کی ظاہری نیکیوں کا توازن سر نیکیوں کے مقابل پر زیادہ ہوتا ہے اور جتنا کوئی خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے یہ توازن التا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی ظاہری نیکیاں اس کی سر نیکیوں سے مغلوب ہو جاتی ہے اور اکثر نیکیاں اس کی مخفی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ انبیاء کی ذات پوشیدہ ہو جاتی ہے۔جب تک خدا نہ ان کو ابھار کے ان کی طرف سے اعلان کرے اور ان کے حسن کا اظہار نہ کرے وہ مخفی رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے ابتدائی دور اور دوسرے دور کا موازنہ فرمایا ہے۔اس میں یہی راز کھولا ہے کہ اگر خدا مجھے مجبور نہ کرتا اور خود مجھے باہر نکال کر دنیا کو نہ دکھاتا تو میں اس حال پر راضی تھا جو میر امنفی حال تھا۔پس سوائے اللہ کے کوئی آنکھ نہیں جانتی تھی کہ میں کیا کرتا تھا، کیوں کرتا تھا، میری کیا سوچیں تھیں، میرے کیا اعمال تھے کیونکہ وہ دنیا کی نظر س مخفی تھے۔پس یہ بھی ایک عجیب سفر ہے جو اظہار سے اخفاء کی طرف چلتا ہے جو جہر سے سر کی طرف روانہ ہے اور انفاق فی سبیل اللہ میں بھی یہی مضمون ہے۔اللہ کی راہ میں ظاہری مال خرچ کرنے والے بھی شروع میں اتنا خفی ہاتھ نہیں رکھتے لیکن دن بدن پھر اظہار سے کچھ گھبرانے لگتے ہیں۔اظہار