خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 807
خطبات طاہر جلد 14 807 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء طرح نہیں پتا چل سکا کہ یہ کیا چیز ہے۔ٹو کی حس کا بھی پوری طرح پتا نہیں چل سکا کہ یہ کیا چیز ہے۔اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کا تعلق سماعت سے ہے اور بینائی سے ہے۔ٹیلی ویژن میں آپ سماعت کو بھی منتقل ہوتا دیکھتے ہیں اور بینائی سے تعلق رکھنے والی توانائیوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔مگر ٹیلی ویژن سے کبھی آپ کو خوشبو نہیں آئے گی ، ٹیلی ویژن سے کبھی آپ کو مزہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ خوشبو اور مزے پر ابھی انسانی علم اتنا محدود ہے اور اتنا سرسری ، سرسری کے بھی کنارے پر کھڑا ہے کہ آج تک اس میں کوئی ترقی نہیں ہو سکی ، کوئی سائنسی قدم ایسا آگے نہیں بڑھ سکا جو جس طرح قوت سماعت اور قوت بینائی کے متعلق حیرت انگیز کام انسان نے کئے ہیں اس میں بھی کر سکے۔اسی لئے میں بارہا احمدی سائنٹسٹس کو توجہ دلا چکا ہوں کہ یہ دو میدان آپ کے لئے خالی پڑے ہیں۔پہلے دومیدانوں پر عیسائیت نے قبضہ کر لیا اور یہ دولطیف تر میدان ہیں جو زیادہ رفعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ گہرائیوں سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ ان کا شعور براہ راست مادی شعور سے اتنا قریب نہیں ہے جتنا سماعت کا شعور مادی شعور سے قریب تر ہے اور بینائی کا شعور مادی شعور سے قریب تر ہے۔یہ ابھی انسانی عقل کی پہنچ سے بہت دور کی باتیں ہیں اس لئے جماعت کو ان پر غور کرنا چاہئے اور یہ سارے نور ہیں۔پس میں جو آپ سے نور کی بات کرتے کرتے آپ کو سماعت کی طرف لے گیا یا قوت ذائقہ کی طرف لے گیا یا خوشبو کی طرف لے گیا تو یہ نہ سمجھیں کہ میں بات کرتے کرتے بہک گیا ہوں۔یہ تمام باتیں نور سے تعلق رکھتی ہیں اور نور کی جو بنیادی تعریف قرآن کریم نے پیش فرمائی ہے اس میں اس کا دکھائی دینا شامل نہیں ہے بلکہ جو دکھائی دیتا ہے وہ دراصل نور کا پردہ ہے۔اصل نور اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یا اس کی ذات سے پھوٹتا ہے اور وہ نور صفات ہے اور وہ نور صفات اس ظاہری نور سے بعض مشابہتیں رکھتا ہے جسے ہم نور سمجھتے ہیں۔نور صفات سے ظاہری مشابہتیں مثلاً یہ ہیں کہ جو ظاہری نور ہے جس کو ہم سفید روشنی کی طرف ، جس طرح وہ دیکھیں آپ کے سامنے وہ ٹیوبز جل رہی ہیں سورج کی روشنی کے مشابہ سفید روشنی پیدا کر رہی ہیں، ان پر غور کریں تو ان میں ایک روشنی تو نہیں ہے، ان میں کئی قسم کی روشنیاں ہیں اور ہر روشنی کی لہروں کے مزاج کا فرق ان کے مختلف رنگ ظاہر کرتا ہے اور ان کے کامل امتزاج سے وہ چیز نکلتی ہے جس کو عرف عام میں نور کہا جاتا ہے۔پس الله نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام