خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 806 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 806

خطبات طاہر جلد 14 806 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء شروع ہوئی ہے اس میں فی ذاتہ کوئی تموج دکھائی نہیں دے سکتا، کامل خاموشی ہے اور وہ اول تموج کی وجہ ہے جو ذہن کے اندر پیدا ہو رہا ہے۔اس لئے جب تک اسی قسم کے تموج میں اس ظاہری شور کو تبدیل نہ کیا جائے اسے بے آواز نہ بنایا جائے دماغ کا دماغ سے رابطہ نہیں ہوسکتا۔پس ہر توانائی کی یہی مثال ہے جو دکھائی نہیں دے رہی ، جو سنائی نہیں دے رہی وہ محسوس کی جاتی ہے لمس کے ذریعے۔پس لمس کے ذریعے جو احساس ہے وہ بھی گرمی کی صورت میں دماغ میں نہیں پہنچتا اور نہ دماغ میں آگ لگادے۔سوچنے والا دماغ ہے۔اگر دماغ سے تعلق کاٹ دیں تو انگلی جوگرم چیز پرلگی ہے وہ بھسم ہو جائے گی اور اگر بہت گرم چیز ہو تو آنا فانا غبار بن جائے گی لیکن اس کی گرمی دماغ تک نہیں پہنچے گی۔دماغ تک نہ کوئی ٹھنڈ پہنچتی ہے، نہ کوئی گرمی پہنچتی ہے، نہ کوئی آواز پہنچتی ہے، نہ کوئی روشنی پہنچتی ہے۔لیکن جو کچھ پہنچتا ہے وہیں پہنچتا ہے، وہاں نہ پہنچے تو کچھ بھی نہیں۔اگر وہ تعلق توڑ دیں تو نہ روشنی کی کوئی حقیقت رہے گی ، نہ گرمی کی کوئی حقیقت رہے گی نہ جس کی طاقتوں سے محسوس ہونے والی چیزوں کی کوئی حقیقت رہے گی۔نہ خوشبو کی حقیقت رہے گی، نہ ذائقہ کی حقیقت رہے گی۔تو خدا تعالیٰ کی طرف حرکت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے حرکت کو اس مضمون کو سمجھنے کے لئے انسان اگر اپنے نفس پر اور اپنی تخلیق پر غور کرے تو اس کو بہت مددمل سکتی ہے اور اس کے بغیر انسان ان حقیقتوں کو پانہیں سکتا۔اب گرمی ہوا اور خدا کا وجود بھی وہاں ہو، جہنم ہو اور خدا کا وجود بھی موجود ہو کیونکہ کوئی کائنات کا ایسا حصہ نہیں۔جہاں خدا موجود نہیں جنت ہو سخت سردی ہو اور خدا کا وجود وہاں موجود ہو اور پھر ان سے بالا رہے اس کی اگر سو فیصدی نہیں اور یقیناً سو فیصدی نہیں تو سمجھانے کے لئے یہ مثال آپ کے کام آ سکتی ہے کہ دماغ تک تو نہ آواز پہنچتی ہے، نہ گرمی پہنچتی ہے، نہ خوشبو بلکہ اگر یہ ساری چیزیں وہاں پہنچ جائیں تو دماغ مختل ہو جائے اور دماغ کام کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔اس کی خدا تعالیٰ نے حفاظت فرمائی اور ان چیزوں کا مرکز ہونے کے باوجود اور ان چیزوں کے تصورات کی آماجگاہ ہونے کے باوجود ان چیزوں کے ذاتی اور براہ راست اثر سے اس کی حفاظت فرمائی گئی ہے اور یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ جس کو ہم مادہ سمجھ کر اتنی اہمیت دے رہے ہیں یہ مادہ فی ذاتہ کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا اگر شعوری موجوں میں تبدیل نہ ہو جائے اور شعوری موجیں اپنی ذات میں بہت ہی لطیف چیزیں ہیں جن کی کنبہ کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا۔آج تک اتنی ترقیات کے باوجود انسان کو ذوق کا بھی پوری