خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 787 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 787

خطبات طاہر جلد 14 787 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 1995ء ہے۔اس لئے ہر انسان صاحب عرش ہو سکتا ہے اگر وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی معیت کی کوشش کرے کیونکہ عرش کو اٹھانے والے دراصل محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مع ساتھ جو بھی ہیں وہ ہیں اور فرشتے اس مضمون میں مددگار ہیں اور فرشتوں کی مدد اور تائید کے بغیر یہ مضمون آغاز سے آخر تک تکمیل پا ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ذریعہ بنا دیا ہے۔یہ ہے عرش کا مضمون۔اب میں اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ حضرت اقدس کے الفاظ ہی میں آپ عرش کے مختلف پہلوؤں کو سمجھیں اور آئندہ یہ دھوکہ نہ لگے کہ کوئی نعوذ باللہ جسمانی چیز ہے جو مخلوق ہے، عرش مخلوق نہیں ہے۔اگر صفات باری تعالیٰ ہے تو مخلوق ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے مخلوق چیزوں کا اس کو اٹھانے کا سوال کوئی نہیں اور فرشتے مخلوق ہیں۔جاعِلِ فرمایا ہے ان کو بنایا اللہ تعالیٰ نے اور ہمیشہ سے اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی کائناتیں بنیں، کتنے فرشتے کب سے چلے آ رہے ہیں مگر ازل سے کوئی فرشتہ خدا کے ساتھ نہیں ہے۔ازل میں مختلف قسم کے وجود روحانی اور غیر روحانی خدا نے پیدا کئے ہیں اور کرتا چلا آیا ہے کیونکہ اس کی وفات معطل نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی بھی تخلیق از لی نہیں ہے۔نظام تخلیق ازلی ہے کیونکہ یہ خالق کا نظام ہے۔تخلیق فی ذاتہ از لی نہیں ہے۔اس لئے اس بات کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور یہی وہ معنے ہیں جن کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ خدا میں زمانہ نہیں پایا جاتا تخلیق میں زمانہ پایا جاتا ہے اور تخلیق کا زمانہ جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کے حوالے سے خدا کا ایک زمانہ دکھائی دیتا ہے۔جو تخلیق کی زندگی کے دور میں خدا کے اور تخلیق کے تعلق میں ہمیں نظر آتا ہے ہم سمجھتے ہیں ایک زمانہ ہے۔مگر زمانہ وہ تخلیق کا ہے مگر اللہ سے اس تخلیق کا جو تعلق قائم ہوتا ہے اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں خدا کا ان سے یہ تعلق قائم ہوا لیکن زمانہ فی ذاتہ اللہ کا نہیں ہے کیونکہ وہ زمانوں سے بالا اور پاک ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں:۔مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔تمام قرآن شریف کو اول سے آخر تک پڑھو اس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی محدود چیز اور مخلوق ہے۔خدا نے بار بار قرآن