خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 782
خطبات طاہر جلد 14 782 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 1995ء اور اس پہلو سے وہ بھی انسان کامل کی خدمت پر مامور ہیں۔پس وہ ساتھ دیتے ہیں انسان کامل کا وہاں تک جہاں سے آگے ان کی رسائی نہیں، جہاں ان کی طاقتیں جواب دے جاتی ہیں اور پھر انسان کامل اکیلا اس بوجھ کو اٹھاتا ہے جسے آسمانوں اور زمین نے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔یہ وہ بوجھ ہے جس کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو استعداد میں عطا کی گئیں جو بنی نوع انسان کو دی گئیں مگر کوئی ان سے کامل فائدہ نہ اٹھا سکا۔اس لئے اس میں کوئی نا انصافی کا سلوک نہیں ہے۔تمام استعداد میں اگر چہ انفرادی طور پر مختلف بھی ہیں مگر بنیادی طور پر جس کو Potential کہتے ہیں،Potential کے لحاظ سے ہر انسان کو عطا ہوئی ہیں۔بعض نے ان کو استعمال کیا ، بعضوں کو وہ Potential زیادہ عطا ہوئے اس وجہ سے نہیں کہ چونکہ Potential زیادہ تھے اس لئے انہوں نے بہتر نمونہ دکھایا۔اس لئے کہ ان کے سجدے کا علم خدا کو تھا کہ اپنی تمام تر صفات کے ساتھ وہ سجدہ کریں گے۔اس لئے انصاف کا تقاضا تھا کہ ان کو استعداد میں اس درجہ کامل تک عطا کی جاتیں جس تک ان کی روح سجدوں کے لئے تیارتھی۔پس بار یک نظر سے بھی دیکھیں تو خدا کے ہاں کوئی فیصلہ بھی بغیر حکمت بالغہ کے نہیں ہے اور کوئی نا انصافی کا مضمون نہیں ہے۔اس دائرے میں رہتے ہوئے جو کامل وجود جوسب سے اوپر نکل گیا در اصل عرش کو اٹھانے والا وہ اور اس کے ساتھی ہیں یعنی صفات باری تعالیٰ کے درجہ کمال کو پہنچنے والا وہ وجود تھا۔- ابتداء میں یہ چار صفات تھیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے اور وہ سورہ فاتحہ کے اندر بیان کردہ چار صفات باری تعالیٰ ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام صفات کا مظہر کامل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر صفت پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر صفت کو جاری کرنا، اس کی خدمت کرنا ، قانون کو اس کے تابع چلا نا یہ معین طور پر ایسے کام ہیں جو بعض فرشتوں کے سپرد کئے گئے ہیں لیکن دنیا میں تو چار ہیں اور آخرت میں پھر آٹھ کا ذکر ملتا ہے اور وہ بھی صفات ہی کا دراصل ذکر ہے جس کا نام فرشتہ رکھا جا سکتا ہے۔اس پہلو سے وہ قابل اعتراض نہیں کیونکہ تمام صفات کے اجراء میں فرشتوں کا دخل ہے اور فرشتے خدمت پر مامور ہیں۔اس پہلو سے جب وہ صفات کو جاری کرتے ہیں، ان کو انسانوں میں چلانے اور ان میں افزائش کے لئے کوشش کرتے اور تحریک کرتے ہیں تو اٹھانے والا تو دراصل انسان