خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 717
خطبات طاہر جلد 14 717 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 1995ء اس کو میں سمجھاتی ہوں لیکن اس کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی جبکہ دوسرے بچے اللہ کے فضل سے بہت اچھے ہیں، بڑے مخلص ہیں، نمازوں میں بھی بہت اچھے ہیں۔تو مراد یہ ہے کہ صلاحیتیں ہوں اور پھران کو پورا نہ کیا جائے اگر محبت ہو تو پھر غم لگتا ہے۔اگر محبت نہ ہو تو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔تو بنی نوع انسان سے اگر سچی محبت ہو، اگر جماعت سے سچی محبت ہو، اس کے مقاصد سے سچی محبت ہو تو کوئی آدمی بھی چین کی زندگی بسر نہیں کر سکتا جب تک اپنے کمزوروں کا غم نہ لگالے اور جب غم لگے گا تو ہر وقت آپ کو فکر رہے گی۔پھر یہ ضروری نہیں ہوگا کہ عہدیدار آپ کے دروازے کھٹکھٹائے اور آپ کو کہے کہ فلاں کو بیدار کرنے کی کوشش کرو، فلاں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرو، پھر آپ کا غم آپ کو مجبور کرے گا۔ہر وقت یہ سوچیں گے کہ وہ کمزور بھی رہ گیا ہے، وہ کمزور بھی رہ گیا ہے کیوں نہ اس کو بھی ساتھ شامل کیا جائے تو ساری جماعت میں ایک کھلبلی سی مچ جائے گی اور یہ غم ہے جو حیرت انگیز سکھ پیدا کرے گا۔دیکھو بہت سے سکھ ہیں جو لازماً غموں کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں۔اگر وہ غم نہ ہوں تو وہ سکھ بھی نہیں آتے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ ماں کو بغیر تکلیف کے بھی بچہ عطا کر سکتا تھا مگر بچے کی غیر معمولی محبت کی خاطر ماں کو ان دکھوں سے گزارا جاتا ہے اور ان دکھوں کا اس بچے کی محبت سے ایک گہرا ذاتی تعلق ہے۔لوگ سوچتے نہیں ان باتوں کو، بعض دفعہ جہالت میں کہہ دیتے ہیں کہ ماؤں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے اور بے تکلیف کے یونہی بچے ہوتے تو گلیوں میں رکتے پھرتے۔کوئی ان کو نہ پوچھتا ، ماؤں کو بھی ان کی کوڑی کی پرواہ نہ ہوتی۔یہ نو مہینے کا دکھ ہے وَهُنَّا عَلَى وَهْنٍ (لقمان: 15) کمزوری کے بعد کمزوری پھر بھی مائیں اسے اٹھائے پھرتی ہیں اور بڑی محنت کرنی پڑتی ہے پھر بچہ پیدا ہوتا ہے۔تو دیکھو کس اذیت سے، بعض دفعہ جان کا خطرہ بن کر آتا ہے۔اس سے تو پھر پیار ہونا ہی ہوتا ہے یہ ایک فطرتی بات ہے وہ یہ چیز محبت پیدا کر دیتی ہے۔پس ماں کے غم سے بچے کی محبت پھوٹتی ہے۔ماں کے غم میں وہ رحمت ہے جو اسے ہمیشہ بچے سے ایسا پیار کرنے کی توفیق بخشتی ہے کہ کبھی کسی رشتے میں ایسا پیار آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔پس اس پہلو سے غم لگانا بہت ضروری ہے۔یہ محض ٹھنڈے دلوں کی باتیں نہیں ہیں ٹھنڈی باتوں کے لیکھے نہیں ہیں یہ تو آپ کو اللہ سے پیار کے نتیجے میں اس کے بندوں کا غم لگانا ہوگا۔جب غم لگ جائے گا تو پھر اور بھی بہت سی باتیں پیدا ہوں گی پھر دعا ئیں جو اٹھیں گی ان میں بڑی رفعتیں پیدا