خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 694
خطبات طاہر جلد 14 694 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء ورژن الگ تیار ہو تو دیکھیں کتنا بڑا کام ہے۔لیکن ایک دفعہ یہ کام ہو تو آپ کی بہت سی مشکلات حل ہو جائیں پھر آپ اگر سرحدوں پر گھوڑے باندھیں گے اور وقت پہ آواز دیں گے کہ فلاں طرف ہم خطرے کو محسوس کر رہے ہیں، وہاں خطرے کے آثار دیکھ رہے ہیں تو پہلے ہی سے جوابی کارروائی تیار ہوگی اور آنا فانا آپ کا پیغام ایم ٹی اے کو پہنچ سکتا ہے کہ اس وقت ہمیں بوسنین میں جوابی کارروائی کے لئے فلاں فلاں ٹیسٹس کی ضرورت ہے جو پہلے سے تیار شدہ آپ کے پاس موجود ہیں ان کو بوسنین وقت میں چلانا شروع کریں تا کہ پیشتر اس کے کہ غلط فہمیاں دلوں میں جگہ پاسکیں ان کو داخل ہونے سے ہی روک دیا جائے۔یہ منصوبہ جب تک مکمل طور پر پہلے تشکیل نہ پاچکا ہو اور دفاعی نظام مکمل نہ ہو چکا ہو، اس کا ڈھانچہ مکمل نہ ہو چکا ہو، اس وقت تک اچانک اگر کچھ ہوا اور آپ کو خبر مل گئی تو آپ کچھ نہیں کرسکیں گے۔اس لئے جو بات میں نے شروع میں کہی تھی اس سارے مضمون کو واپس اسی طرح لوٹا رہا ہوں اور اس کے حوالے سے اب میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے کاموں کو اس طرح مستعد کریں کہ ہر زبان کا ایک سیکشن ہو، اس سیکشن کے لئے وہ تمام ضروریات مہیا ہوں جو اس زبان میں احمدی ویڈیوز تیار کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ان میں کوئی ایسا انسان موجود ہو جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنیادی دینی علوم بھی سمجھتا ہو اور انتظامی صلاحیتیں بھی رکھتا ہو اور پھر ہر زبان میں وہ ویڈیوز اعلیٰ پیمانے پر تیار ہو کر اس کثرت سے ہمیں پہنچنی شروع ہوں کہ ہم پھر یقین کے ساتھ الگ پروگرام جاری کر سکیں۔میری خواہش ہے کہ اب ایم ٹی اے کے اوپر مستقلاً عربی بجائے اس کے کہ تین دن کالقاء مع العرب ہو کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ کا لقاء مع العرب پروگرام چلے اور اس کے لئے مواد بہت ہے۔اگر میرے دورے کی ویڈیوز کو ہی عربی زبان میں ڈھال لیا جائے اور دیگر جو ویڈیوز تیار ہو چکی ہیں مثلاً قرآن کریم کی کلاسز ہیں، مثلاً دوسرے لوگوں سے سوال و جواب کی مجالس ہیں، ان سب کو اگر عربی زبان میں ڈھال لیا جائے تو مستقلاً ہم روزانہ الگ پروگرام پیش کر سکتے ہیں۔ہزاروں گھنٹوں کے پروگرام بن سکتے ہیں اور پھر ان میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جن کو لازماً دہرانا بھی ہوگا۔کیونکہ وہ ایسے مضمون سے تعلق رکھنے والے ہیں جن کو ایک دفعہ بیان کرنا کافی نہیں۔بعض دفعہ آج ایک بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی اگر دہرائی جائے تو پھر کل پوری طرح سمجھ آسکتی ہے۔بعض