خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 678

خطبات طاہر جلد 14 678 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء اس پہلو سے دعوت الی اللہ کے مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔دعوت الی اللہ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی کامیابیاں عطا فرماتا ہے ان کا میابیوں پر اس طرح راضی ہو کر بیٹھ رہنا کہ گویا اب ہم نے اپنے مقصد کو پالیا، جو کچھ حاصل کرنا تھا حاصل کر لیا اور جو ہمارا ہوا وہ ہمارا ہو چکا ہے۔یہ تصور درست نہیں ، قرآن کریم اس تصور کو جھٹلاتا ہے اور کئی طریقوں سے مومن کو بیدار کرتا ہے۔ان طریقوں میں سے ایک تو یہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کرو یعنی جہاں جہاں سے دشمن نے حملہ کرنا ہے وہاں تمہارے گھوڑے تیار موجود ہوں اور کبھی بھی دشمن تمہیں Surprise نہ دے سکے۔Surprise کا ایک محاورہ بن چکا ہے۔انگریزی لفظ ہے لیکن اب دنیا میں عام مشہور و معروف بن گیا ہے۔فوجی اصطلاح میں Surprise کہتے ہیں ایسے حملے کو جس کی دشمن کوکوئی توقع نہ ہو اور اچانک اس طرح حملہ ہو کہ اس کے پاؤں اکھڑ جائیں کیونکہ توقع نہ ہو تو تیاری نہیں ہوتی ، تیاری نہ ہو تو دفاع کے سامان ہونے کے باوجود انسان بسا اوقات انہیں استعمال نہیں کر سکتا۔پس اس پہلو سے اول تو یہ حکم ہے کہ تمہارے مختلف کناروں سے یعنی جہاں جہاں تمہارے اور دشمن کی سرحدیں ملتی ہیں وہاں ہمیشہ دشمن کے حملوں اور شرارتوں کی توقع رہنی چاہئے اور اس کا احتمال ہمیشہ رہے گا اور تم نے ہمیشہ نظریں رکھنی ہیں کہ کب کس وقت کوئی منصو بہ ہوتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اس ہدایت کا مرقع تھے یعنی ایک زندہ مثال تھے۔باوجود اس کے کہ عرب کے ریگستان میں رسل و رسائل کے کوئی اہم ذرائع موجود نہیں تھے اور دور دور کی خبریں آنے میں بہت وقت لگتا تھا مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نظر مشرق کی سرحد پر بھی تھی مغرب کی سرحد پر بھی تھی ، شمال کی سرحد پر بھی تھی، گرد و پیش پر بھی تھی اور وہ غزوہ تبوک جس کا ذکر کثرت سے ملتا ہے اس کی وجہ یہی نہیں تھی کہ آنحضرت ﷺ کو یہ علم ہو چکا تھا کہ دشمن اسلام کی سرحدوں پر فوج جمع کر رہا ہے اور بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔غزوہ تبوک کے نتیجے میں کوئی بڑی لڑائی تو نہ ہوئی کیونکہ قبال کی نوبت نہ آئی مگر بر وقت مستعد کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے ارادے ٹل گئے اور ان کی فوجیں بکھر گئیں اور انہوں نے جب یہ دیکھا کہ ایک بہت ہی مستعد اور بیدار مغز مد مقابل ہے تو اس بات کی جرات ہی نہ ہوئی کہ با قاعدہ جم کر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا مقابلہ کر سکتے۔تو بیدار