خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 647

خطبات طاہر جلد 14 647 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء ہوتی ہیں۔یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ محض ملکیت کے اظہار کی خاطر کر دے اور اس میں مخفی حکمت کوئی نہ ہو۔حکمت سے عاری خدا کا کوئی فیصلہ نہیں۔پس میں سمجھتا ہوں ان لوگوں کا بھی مخفی قربانیوں سے تعلق ہے۔کچھ باتیں انہوں نے ایسی چھپا کر خدا کی خاطر کی ہیں، اس کی محبت جیتنے کے لئے کچھ ایسے انداز اختیار کئے جو اللہ جانتا ہے یا وہ جانتے ہیں۔اس لئے قیامت کے دن بھی اللہ سب سے زیادہ شکور بن کر ان پر ظاہر ہو گا۔کسی کو نہیں بتائے گا کہ کیا بات ہے۔جس طرح انہوں نے چھپائی اپنی محبت ، اللہ اس محبت کو ایسے رنگ میں چھپائے گا کہ دنیا پر ظاہر تو ہوگی مگر مجھ نہیں آئے گی کہ کیا وجہ ہے کیوں ان لوگوں سے ایسا احسان کا سلوک ہو رہا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بعض خاص ادا ئیں خدا کی محبت کی اس کو پسند آتی ہیں جبکہ ایسا شخص بعض دفعہ بدیوں میں بھی مبتلا ہوتا ہے، کمزوریوں کا بھی شکار ہوتا ہے۔پس وہ بے حساب لوگ جو ہیں عین ممکن ہے کہ ان میں ایسے لوگ شامل ہوں جن کی بعض نیکیاں اتنی خالص تھیں، بعض ادا ئیں اللہ کو اتنی پیاری تھیں کہ ان کی بدیوں سے صرف نظر کرنے کا فیصلہ فرمالیا گیا۔وہ کھاتے اگر کھل کر پیش کر دیئے جاتے تو خدا کے احسان میں ایک قسم کی کدورت داخل ہو جاتی۔وہ کہتے اللہ نے بخشا تو ہے مگر سب کو بتا کے بخشا ہے کہ یہ تھا۔اس لئے ان کو بخشا گیا ہے ایسے انداز میں کہ کسی کو کچھ پتا نہیں کہ کھاتے کے اندر کیا چیز تھی۔یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اسی حساب کتاب کے مضمون میں یہ بھی فرماتے ہیں، یہ ایک انداز ہے ویسے تو خدا کا نہ جسم ہے نہ اس کے کان ہیں ایسے، مگر اظہار بیان کا ایک طریق ہے جسے انسان سمجھ سکتے ہیں۔فرمایا، بعض ایسے بندوں کو بلا کر ان کے کان میں بات کرے گا کہ دیکھو یہ بات ہے میں تجھے بخش رہا ہوں۔تو یہ پیار کے انداز ہیں اور منعکس ہو رہے ہیں، اصل میں دل سے اٹھے ہیں وہ انداز اور خدا تعالیٰ کے احسان کے آئینے سے منعکس ہو کر بہت زیادہ خوبصورت بن کر بہت زیادہ دلکش ہو کر اور روشن تر ہوکر پھر وہ قیامت کے دن جزاء کے طور پر پیش کئے جائیں گے۔پس یہ جو قرآن کریم فرماتا ہے سِرًّا وَ جَهْرًا ساتھ اس کے یہ بھی فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو اس طرح خرچ کرنے والے ہیں یہ دوسرے لوگوں کے برابر ہو نہیں سکتے ، ان کا وجود ایک مختلف وجود ہے۔چنانچہ اس مضمون کو کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: