خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 646

خطبات طاہر جلد 14 646 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء کرتا ہے حالانکہ بات بیچ میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔وجہ یہ ہے کہ جذ بہ جو پیچھے کارفرما ہے، تحائف کی کنجی اس جذبے میں ہے۔وہ جذبہ اگر خارق عادت ہوگا تو تحائف کی شکل بھی خارق عادت ہو جائے گی اور وہ مخفی جذ بہ نیت سے تعلق رکھتا ہے اس اندرونی فیصلے کے حالات سے تعلق رکھتا ہے جن حالات میں ایک شخص نے ایک فیصلہ کیا ہے۔وہ حالات اگر ایسے ہوں کہ بظاہر ایک انسان توفیق نہ پاتا ہو کچھ پیش کرنے کی اور سوچوں کے بعد آخری دل کی نیت یہ فیصلہ کرے کہ جو کچھ بھی ہے میں خدا کی خاطر یہ ضرور کروں گا۔یہ چونکہ خارق عادت فیصلہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس سے پھر خارق عادت طریق اختیار فرماتا ہے۔لیکن خارق عادت سے پہلے احسان کا مضمون ہے اور یہ جو میں نے ابھی آیت آپ کے سامنے رکھی ہے اس میں احسان ہی کا مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔وَأَحْسِنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ کہ بعض لوگ ہیں جو احسان سے کام لیتے ہیں۔اپنی چیزوں کو ، اپنی قربانیوں کو حسین بناتے ہیں۔یادرکھو اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے۔اب فرمایا سِرًّا وَ عَلَانِيَةً اور سرا کا مضمون میں بیان کر رہا ہوں کہ جو مخفی ہے اس میں خارق عادت باتیں پائی جاتی ہیں۔جو اعلانیہ ہیں ان میں نہیں پائی جاتیں۔اس لئے اپنی مخفی قربانیوں کی حفاظت کریں اور ان پر نظر رکھیں اور ان کو پہلے سے بڑھ کر خوب صورت بنانے کی کوشش کرتے رہیں اور یہ وہ چیز ہے جو اس دن کام آئے گی۔يَوْمُ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلل جس دن نہ کوئی تجارت کام آئے گی نہ کوئی دوستی کسی کے کام آئے گی۔قیامت کے دن بھی بعض ایسے فیصلے ہوں گے جن کی لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی۔قیامت کے دن بھی کچھ ستاری کے ایسے اظہار ہوں گے جن کی دنیا کوسمجھ نہیں آئے گی۔بظاہر یوں لگے گا کہ خدا تعالیٰ نے یونہی بعضوں کو چن لیا ہے۔ستر ہزار جو بے حساب امت محمدیہ میں بخشے جائیں گے یا امت محمدیہ میں جو خوش نصیب ستر ہزار کی تعداد میں بخشے جائیں گے یہ وہی لوگ ہیں۔بے حساب ہیں ان کے اعمال نامے سے پردہ اٹھایا ہی نہیں جائے گا۔کسی کو بتایا ہی نہیں جائے گا کہ نیکیاں کتنی تھیں بدیاں کتنی تھیں اور صرف یہ اعلان ہوگا کہ بخشے گئے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ویسے تو اللہ ہر چیز پر قادر ہے جس کو چاہے بخشے، کسی دلیل کا محتاج نہیں مگر چونکہ حکیم ہے اس لئے مخفی در مخفی حکمتیں ضرور کارفرما