خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 630
خطبات طاہر جلد 14 630 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء کے اموال ہی میں برکت نہیں پڑے گی وہ تو پڑنی ہی پڑنی ہے وہ ایک ضمنی چیز ہے ہنمنی بھی ایسی کہ آپ کو اس کی تمنا بھی نہیں ہے۔یہ بھی تو ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اپنے محبوب کو آپ تحفہ دیں تو وہ بھی آگے سے تحفہ دیتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس تحفے سے انسان شرمندہ ہو جاتا ہے۔محبت کے نتیجے میں خوش تو ہوتا ہے لیکن اسے لگتا ہے کہ میں چاہتا تھا کہ میرا ہی تحفہ اس طرف رہے، اس کی طرف سے بھی آگیا، اب میں کیا کروں تو اللہ تعالیٰ کو تو اس میں آپ ہر انہیں سکتے اس نے تو دینا ہی دینا ہے اور اتنا دینا ہے کہ آپ کے تھے ہمیشہ اس کے مقابل پر ذلیل اور حقیر ہو جایا کریں گے مگر سب سے بڑا سودا محبت کا ہے۔جو محبت اس کی عطا ہوگی وہ آپ کے لئے بھی ذرہ ذرہ بھی ایسا کہ آپ اس کو لینے کے لئے جان بھی قربان کر دیں تو لیں اور ہوگی بھی اتنی کہ لامتناہی ہے۔آپ سے سمیٹی نہ جائے۔اس دنیا میں بھی خدا کی محبت نصیب ہوگی ، اس دنیا میں بھی خدا کی محبت نصیب ہوگی۔پس جن قوموں نے مال کے سودے کرنے ہیں اور قربانیاں کرنی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ ان کی باریک راہوں کو دیکھیں اور سمجھیں اور اپنی قربانی کی سب سے زیادہ قیمت لیں اور اللہ کی محبت قربانی کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔اسی کے نتیجے میں انسان البر بنتا ہے۔ہر کریم ایسا جو واقعۂ معزز ہو جاتا ہے اور دنیا کے معاملات میں بھی وہ معزز کہلاتا ہے۔پھر اس کے دنیا سے سلوک بھی کریمانہ ہو جایا کرتے ہیں۔پس اللہ کرے کہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ مالی قربانی والے ایسے پیدا ہوں۔جو محبت الہی کی وجہ سے قربانی کریں اور ایسے اموال پیش کریں جو چاہتے ہوں کہ محبت ہو تو پیش کئے جائیں ورنہ نہ پیش ہوسکیں۔اب وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیاوی طور پر بہت حصہ پاتے ہیں، امیر ہو جاتے ہیں اب ان کا مال کی محبت کا معیار بھی ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ایک غریب آدمی کی مال سے محبت جو ہے وہ اگر اس کو ہزار روپیہ ملتا ہے یعنی آج کل کے زمانے میں پاکستان میں تو ہزار بھی ایک غربت کا نشان ہے، اس میں اگر وہ سو بھی دے تو بہت بڑی قربانی ہے کیونکہ وہ جو ہزار ہے وہ اس کی روزمرہ کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔اس لئے سوکی بحث نہیں رہی یہ بحث ہے کہ جو مال پیش کر رہا ہے اس سے محبت ہے کہ نہیں اور ضرورت مند سے زیادہ کون مال سے محبت کر سکتا ہے۔پس جتنا غریب ہو اتنا ہی اس کا تھوڑا بہت ہو جاتا ہے۔یہ بھی اس آیت کا پیغام ہے جو بہت ہی لطیف ہے کہ تم وہ خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہے پھر خواہ تھوڑا بھی ہوا گر محبت زیادہ ہے تو