خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 626
خطبات طاہر جلد 14 626 خطبه جمعه 25 راگست 1995ء کوئی شرط نہیں ہے۔عام تجارت ہے، آپ جتنا پیسہ ڈالیں گے اگر عقل سے کام لیں گے تو اس سے زیادہ آپ کو واپس مل جائے گا۔اگر عقل سے کام نہیں لیں گے تو جو ڈالا ہے وہ بھی ضائع ہو جائے گا۔یہ دنیا کا عام تجارت کا قانون ہے۔ایک تجارت یہ ہے کہ آپ کی عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے ، صرف ایمان کا دخل ہے۔اگر آپ کو یہ علم ہو جائے کہ ہر چیز کا مالک خدا ہے اور وہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر تم ایمان کے ساتھ میری خاطر خرچ کرو تو تمہاری تجارت کے فائدے کا ذمہ دار میں ہوں۔میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس تجارت میں کوئی گھاٹا نہیں ہوگا۔سب سے زیادہ یقینی یہ تجارت ہے جو کبھی ہلاک نہیں ہوگی۔یہ ان دونوں تجارتوں میں لازماً بہت زیادہ اعلیٰ درجے کی تجارت ہے اور اس لحاظ سے بھی اعلیٰ ہے کہ تجارت دنیا میں ہی فائدہ نہیں دیتی بلکہ مرنے کے بعد بھی دے گی اور آپ کا مال یہیں بڑھتا ہوا بند نہیں ہو جائے گا بلکہ مرنے کے بعد بھی بڑھتا رہے گا۔تو ایسی تجارت جولا متناہی ہو جاتی ہے کبھی ختم نہیں ہوتی اس تجارت سے بدرجہا بہتر ہے بلکہ کوئی نسبت ہی نہیں ہے جو تجارت دنیا کی تجارت ہے۔تیسری تجارت وہ ہے قرضہ حسنہ والی۔اس کو انفاق نہیں کہا گیا ، اس کو قرضہ حسنہ کہا گیا ہے۔وہ تجارت ہے جبکہ دین کو ضرورت بھی ہے اور باوجود اس کے کہ اللہ زمین و آسمان کا مالک ہے، ساری جائیداد، ساری کائنات اسی کی ہے پھر بھی وہ چاہتا ہے کہ آپ اس کام کو سنبھالیں اور پھر آپ کو اپنی کائنات میں سے وہ کچھ عطا کرے جو پہلی تجارت کے مقابل پر بہت زیادہ ہو اور یہاں سود درسود در سود کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔یہ سود آپ کی طرف سے سودے کے طور پر نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کے طور پر ہے۔پس ضرورت کے وقت کے خرچ انفاق سے بڑھ کر قرضہ حسنہ میں داخل ہو جاتے ہیں اور قرضہ حسنہ کے دو پہلو ہیں۔ایک تو قرضہ لینے والے کا پہلو ہے یعنی اللہ اور ایک قرضہ دینے والے کا پہلو ہے یعنی خدا کا بندہ۔قرضہ حسنہ اس کو اس لئے کہا گیا کہ دینے والا زیادہ کی نیت سے نہیں دیتا بلکہ دین کی ضرورت پوری کرنے کی خاطر دے رہا ہے۔اس لالچ میں نہیں دیتا کہ وہ بڑھے گا اور حسنہ کا دوسرا پہلو ہے لینے والے کا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ لینے والا اتنا معزز ہے، اتنا کریم ہے کہ جب جانتا ہے کہ بے شرط کے دیا گیا ہے تو پھر بہت زیادہ بڑھا کے عطا کرتا ہے اور غیر مشروط قربانی کا لامتناہی اجر عطا کرتا ہے۔یہ وہ تین قسم کی تجارتیں ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ملتا