خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد 14 610 خطبہ جمعہ 18 راگست 1995ء ہے کہ ایسے لوگوں کا مال آپ کو دکھائی نہ بھی دے تو ہلاک ہو چکا ہوتا ہے۔کئی دفعہ لوگ یہ سوچتے ہی نہیں کہ بعض ایسے امیر ہیں جن کے مال تجوریوں میں ہیں یا بنکوں میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسے کنجوس ہیں کہ وہ اپنے اموال سے آپ کبھی فائدہ اٹھا ہی نہیں سکے۔اب بتائیں ان میں اور غریب میں فرق کیا ہے۔ان کا مال ان کے لئے ہلاک ہو ہی گیا ہے۔ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں۔یوں ہی آپ کو وہم ہے کہ ان کے ہاتھ میں خزانے ہیں ، خزانے نہیں خزانوں کی چابیاں ہیں اور ایسے ہاتھوں میں ہیں کہ وہ اپنے خزانوں سے پیسے نکال ہی نہیں سکتے تو چوکیدار ہو گئے اور ہر وقت کا غم کہ مال ہلاک نہ ہو جائے۔یہ دراصل ہلاکت کی بددعا کا نتیجہ ہے۔ایسے لوگوں کو جو مال تالوں میں بھی بند پڑا ہے اس کے تحفظ کا بھی کبھی یقین نہیں ہوتا۔ہر وقت ایک غم میں گھلتے چلے جاتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ پاکستان کے ایک کروڑ پتی تاجر کا واقعہ بیان کیا تھا۔ان کے ایک احمدی رشتہ دار تھے جو ایک دفعہ ایک بڑی دعوت میں جو انہوں نے کی تھی جس میں تمام پاکستان کی معزز ہستیاں شامل تھیں اس دعوت میں ان رونقوں کو دیکھ کر اس سے مرعوب ہو کر اس نے اپنے عزیز سے سوال کیا کہ تمہاری تو موجیں ہی موجیں ہیں تمہیں تو سب کچھ حاصل ہو گیا ہے۔اچانک اس کی کیفیت بدل گئی۔ضبط مشکل ہو گیا۔کہتے ہیں اس نے بٹنوں کو کھولا بھی نہیں یوں پھاڑ کے چھاتی کہ یہاں جھانک کر دیکھو کیا ہو رہا ہے۔آگ لگی ہوئی ہے۔تمہیں وہم ہے کہ تسکین ہے۔تو بعض دفعہ آپ دیکھ رہے ہیں بظاہر کہ ان کو کچھ بھی نہیں ہوا لیکن یہ جو فرشتوں کی دعا ہے یہ کام ضرور کرتی ہے۔ان کی اولادیں بسا اوقات انہی پیسوں سے برباد ہو جاتی ہیں جو ان کو ورثوں میں ملتے ہیں اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر بھی ان کی تجارتیں اچانک ایک ایسے موڑ پر چلی جاتی ہیں جہاں سے پھر واپسی ممکن نہیں رہتی۔ہزار قسم کی بلائیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔تو آپ اپنی آنکھ سے دیکھ کرکسی کے سکون اور اس کے اطمینان کا فیصلہ نہ کیا کریں۔قرآن کریم نے جو مضامین بیان فرمائے ہیں بہت گہرے ہیں اور یہی سچے ہیں۔امیر آدمی کو کوئی چین نہیں اگر انفاق نہیں کرتا۔اتفاق ہی میں سکون ہے۔انفاق میں بظا ہر انسان مال ہلاک کر رہا ہے لیکن اس کی اتنی قیمت وصول نہیں کرتا کہ اس کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔قیمت وصول کرنے سے ہر گز یہ مراد نہیں ہے کہ فورا اللہ تعالیٰ ادھر ایک ہاتھ سے کوئی دے اور دوسرے ہاتھ سے