خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 609

خطبات طاہر جلد 14 609 خطبہ جمعہ 18 اگست 1995ء سے روایت ہے ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اللہ ان سے راضی ہو یا راضی ہوا، بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر صبح دوفرشتے اترتے ہیں۔ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے سٹی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے اے اللہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلا کت دے اور اس کے مال و متاع برباد کر۔( بخاری کتاب الزکاۃ ) یہ جو مضمون ہے کہ عرش معلی پر انسانی نظام کو یا خدا تعالیٰ کی کائنات کے نظام کو چلانے والے جو وجود ہیں وہ فرشتے کہلاتے ہیں۔تو دو فرشتے اترتے ہیں سے یہ مراد نہیں کہ انسانوں کی طرح کوئی دو شخص اتر رہے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی احادیث پر غور کرنے سے جو فرشتوں کا مضمون سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح وقت کی مناسبت سے پہرے ہوتے ہیں ، وقت کی مناسبت سے ڈیوٹیاں بدلا کرتی ہیں ہر وقت کے لئے اس وقت کے نظام کو چلانے کے اللہ تعالیٰ کے خاص مامورفرشتے ہیں ، جو اس نام کے لئے نور بنائے گئے ہیں اور صبح کا نظام ہے اندھیروں سے روشنی میں انسان داخل ہو رہا ہے، کئی قسم کی نئی امنگیں پیدا ہو رہی ہیں، کئی قسم کے امکانات دوبارہ ابھر رہے ہیں، کئی قسم کے امتحانات نئے در پیش ہیں ان موقعوں کے لئے اس مضمون سے تعلق والے فرشتے ہوتے ہیں۔تو دو فرشتوں سے مراد یہ ہے کہ اس مضمون میں دو قسم کے فرشتے ہیں جو خاص طور پر حرکت میں آ جاتے ہیں ان کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ایک وہ ہیں جو خدا کی خاطر خرچ کرنے والوں کے دلوں کو تقویت دیتے ہیں اور ان کے اموال میں برکت کا موجب بنتے ہیں اور دوسرے عمل جو فرشتوں کے طبعا جاری ہیں اس کے علاوہ دعا بھی کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے۔ایسے فرشتوں کے ذکر میں فرماتا ہے۔وہ کہتے ہیں اے اللہ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔تو بد دعا جو ہے دراصل اس عمل کرنے والے کے عمل کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔اس طبعی نتیجے کوحرکت دینے اس کو مزید آگے بڑھانے میں یہ دعا اصل میں منظر کشی کر رہی ہے قانون قدرت کی کہ فرشتے اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔فرشتے جو محنتوں کے پھل بناتے ہیں یا محنتوں میں نقص کے نتیجے میں پھلوں کو ضائع کر دینے کے قانون پر راج کر رہے ہیں ان کے اختیار میں وہ قوانین ہیں۔ان کی دعا کا مطلب یہی ہے کہ ان کا عمل پھر ان کے خلاف شروع ہو جاتا ہے۔کئی دفعہ ایک انسان کہتا ہے کہ ہم نے تو بہت سے کنجوس ایسے دیکھے ہیں جن کے اموال میں بڑی برکت پڑی وہ بڑھتے رہے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن امر واقعہ یہ