خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد 14 604 خطبہ جمعہ 18 /اگست 1995ء کے لئے ایک دار کے طور پر ہوگی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے انہی کے لئے اس گھر کا انجام ہے عقبی انجام کو کہتے ہیں الدَّارِ وہ گھر یعنی قیامت کا گھر۔قیامت کے بعد ملنے والا گھر۔مگر جس طرح بھی اس کا ترجمہ کریں بات وہی ہے کہ ان کو انجام کار، نتیجہ وہ گھر عطا ہوگا جو دائمی ہے۔اس میں تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ تو نہیں فرمایا گیا۔لیکن الدَّارِ کہہ کر جنت کی نعماء جو ہمیشہ کے لئے رہنے والی ہیں ان کے دوام کی طرف اشارہ فرما دیا۔پس فرق جو ہے نتیجے میں وہ آیت کے آغاز کے فرق کے طور پر وہ خود بخود پیدا ہوتا ہے۔صَبَرُوا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمْ سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں غریب، جو دنیا میں نہ گھر رکھتے ہیں نہ دنیا کی عارضی نعمتیں ، نہ اچھے لباس، نہ اچھا اوڑھنا بچھونا ان کو میسر ہوتا ہے اور اس کے باوجود وہ خدا تعالیٰ کے رزق پر چوری ہاتھ نہیں ڈالتے۔صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ کا مطلب یہ ہے کہ محروم ہیں بعض نعمتوں سے، گھروں سے محروم ہیں، اچھے کپڑوں سے محروم ہیں، اچھے کھانے سے محروم ہیں لیکن اس کے باوجود وہ نا جائز ذرائع سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتے ہوئے اپنے دل کی یہ تمنائیں پوری نہیں کرتے۔صَبَرُوا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمُ الله کی رضا کو چاہتے ہوئے صبر کر جاتے ہیں کہ اللہ راضی رہے۔کوئی حرج نہیں یہ چیزیں نہ ملیں۔اس لئے طبعا ان کی جزا الدَّارِ ہونی چاہئے تھی۔الدَّارِ سے مراد ایسا گھر جو ہر قسم کی نعمتوں سے بھرا ہوا ہے۔اس میں کسی چیز کی بھی کمی نہیں۔جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کی خواہش ان کے لئے وہ چیز میں اس طرح پوری کرے گی جیسے کوئی خواہش اور ماحصل میں فاصلہ ہی کوئی نہیں۔ادھر تمنا کی ادھر وہ چیز حاضر ہوگئی۔اور ان کے قیام صلوۃ کا صبر کے ساتھ وہ تعلق ہے جو تلاوت کا بھی قیام صلوۃ سے ایک تعلق ہے۔صبر اور صلوٰۃ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اکٹھا باندھا ہوا ہے۔وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ والصلوۃ (البقرہ:45) تو محض صبر کر کے نہیں بیٹھ رہتے بلکہ صلوۃ کے ذریعے وہ اپنی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور جہاں تک اللہ کی خاطر خرچ کرنے کا تعلق ہے اس حالت کے باوجود، اس غربت کے باوجو در کتے نہیں ہیں، نہ دار ہے یعنی نہ وہ پر سکون گھر ہے جس کے ساتھ نعمتیں میسر ہوں۔گھر کے تعلق میں جو بھی جنت ہے دنیا میں اس سے محروم ہیں، ناجائز طور پر حاصل نہیں کرتے اور پھر جو کچھ ہے وہ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ان کی ایک اور