خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد 14 603 خطبہ جمعہ 18 /اگست 1995ء دنیا میں خرچ کرنے والے اور نفس پر سب کچھ فدا کرنے والے بہت دیتے ہیں اور حاصل کچھ بھی نہیں کرتے۔متاع دنیا ہی ہے نا جو چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے اور جو اللہ کی خاطر خرچ کرتے ہیں وہ ایک پیسہ بھی دیں تو اتنا زیادہ حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کا فیض ان کے لئے لا متناہی فیض بن جاتا ہے۔فیض جو خدا کی خاطر دوسروں کے لئے جاری ہو ان معنوں میں فیض ہے اور جو خدا کی طرف سے ان کے لئے جاری ہوتا ہے وہی فیض ہے جو ان کے فیض نے کمایا ہے۔پس یہ وہ تجارت ہے جس کے متعلق فرمایا تِجَارَةً لَّنْ تَبُورَ لیکن اتفاقی نہیں ہے بالا رادہ ہے اور بالا رادہ ہونے کے نتیجے میں ہی اس کو بہت زیادہ فوائد پہنچتے ہیں۔اگر بے ارادہ نیکی ہے تو پھول بھی تو خوشبو دیتا ہے، پھول بھی تو رنگت بکھیرتا ہے۔مگر پھول کو اس کا کوئی ثواب نہیں۔پانی اگر آگ بجھاتا ہے تو قانون قدرت کے طور پر کرتا ہے۔اس میں پانی کے لئے ثواب کا موجب تو کوئی چیز نہیں مگر انسان جب آگ لگا بھی سکتا ہے بجھا بھی سکتا ہے، ارادے کے ساتھ لگاتا نہیں بلکہ بجھاتا ہے اور وہاں لگاتا ہے جہاں خدا چاہتا ہے کہ لگائی جائے تو اس کا ہر فعل خواہ آگ بجھانے کا ہو یا آگ لگانے کا ہو وہ نیکی بن جاتا ہے اس تجارت میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اس کو کوئی گھانا نہیں جو کبھی فنا نہیں ہوگی۔دوسری جگہ الرعد آیت ۲۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً اس میں وَأَقَامُوا الصلوة کے ذکر سے پہلے يَتْلُونَ کتب کے ذکر کی بجائے ایک اور مضمون بیان ہوا ہے۔اس لئے بظا ہر ملتی جلتی آیات ہیں مگر ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ فرق ایسا رکھ دیا ہے کہ مضمون میں ایک نئی وسعت پیدا ہوئی ہے، ایک نیا رنگ بھرا گیا ہے۔وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ جو اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے، رضا کی طلب میں صبر اختیار کرتے ہیں وَأَقَامُوا الصَّلوةَ اور پھر نماز کو قائم کرتے ہیں وَ أَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں سر او عَلَانِيَةً چھپ کر بھی اور کھلم کھلا بھی۔اب دیکھیں یہاں بھی سرا کو پہلے رکھا گیا ہے۔یہ قطعی ثبوت ہے اس بات کا کہ ان کی نیتوں میں کوئی فتور نہیں ورنہ آنکھیں بند کر کے اندھیرے میں پیسہ پھینکنے والا تو جاہل ہوا کرتا ہے سوائے اس کے کہ نیت اعلیٰ ہو اور یہ یقین ہو کہ خدا دیکھ رہا ہے۔فرمایا أُولَكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ ان کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔عُقبی ان