خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 597

خطبات طاہر جلد 14 597 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء آپ نہیں بتاتے وجہ ثانی بتا دیتے ہیں۔پس ان مریضوں کو سنبھالنے کی خاطر میں کہتا ہوں کہ اپنی اولاد پر رحم کرو، اولاد سے تو تمہیں پیار ہے نا۔اس پر رحم کرو اور سوچو کہ تمہارے آباؤ اجداد کی قربانیاں تھیں جو تم کھا رہے ہو۔تو تم قربانیاں کرو گے تو کمی نہیں آئے گی لیکن کمی آ بھی جائے پھر قربانی کرنا یہ اصل ہے، رضائے باری تعالیٰ کی خاطر۔اس لئے خدا نے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا الگ الگ بیان کر دیا ہے۔پہلے تو صرف رضا کی بات کر دی ہے۔بعد میں فرمایا ہم تمہیں ضمنا بتا رہے ہیں کہ تمہارا مال بھی واپس کر دیا جائے گا اور بہت زیادہ کیا جائے گا۔مگر تم نے یہ نہیں چاہا تھا۔اس لئے اب اعلیٰ بات میں یہ بتاتا ہوں اور یہی سب سے اچھی ہے کہ جب بھی مالی قربانی کریں خواہ خدا کی خاطر کریں وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدر: 7) کے مضمون کو پیش نظر رکھیں۔کبھی بھی احسان نہ کرو تا کہ تم زیادہ حاصل کر لو۔اس کا تعلق انسانوں سے ہے۔مگر خدا کی خاطر جب بندوں پر احسان کرتے ہیں اور اس خواہش کے ساتھ کہ اللہ آپ کو زیادہ دے دے تو اللہ زیادہ تو دے گا مگر آپ اس سے زیادہ لے سکتے تھے۔اس سے بہت زیادہ لے سکتے تھے اگر یہ کہتے کہ ہم خدا کی خاطر دے رہے ہیں اور اللہ راضی ہو بس ہمارے لئے بہت ہے، اس کی نظر ہم پر پڑ جائے۔اللہ کی نظر تو ضرور پڑے گی اور بہت زیادہ فضلوں کے ساتھ پڑے گی آپ کا مال یہاں بھی بڑھایا جائے گا ، وہاں بھی بڑھایا جائے گا اور پھر ایک پوٹلی اپنے پاس رکھ لے گا اللہ۔یہ عِنْدَرَ بهِمُ کے مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔یہ ہمارے پاس امانت پڑی ہوئی ہے۔تو اللہ اس مالی قربانی کی روح کو جماعت کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی توفیق بخشے اور جو لوگ بھی کسی پہلو سے محروم ہیں وہ یاد رکھیں کہ اپنے نفس کے فائدے سے محروم ہیں۔اس کے سوا اور کوئی حرکت نہیں کر رہے۔اللہ ہمارے دل بڑھائے ، ہمارے ایسے دل بڑھائے جو خدا کی رضا کی خاطر ہمیشہ پہلے سے زیادہ وسیع تر ہوتے چلے جائیں اسی میں جماعت کی آئندہ آنے والی صدیوں کی زندگی ہے۔