خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد 14 596 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء طرح سالم کا سالم ٹکار ہے گا۔جب مرنے کے بعد اس کے حضور پیش ہوں گے تو پھر وہ کھاتے کھلیں گے جو خدا نے اپنے پاس بطور اجر تمہارے لئے محفوظ رکھے ہیں۔اب یہ وہ مالی قربانی ہے جو خدا کی خاطر کی جاتی ہے اس کے رنگ ڈھنگ ہیں۔اس سے محرومی اصل محرومی ہے۔جو اس مالی قربانی کے نظام میں شامل ہوتے ہیں ان کی تو موجیں ہی موجیں ہیں۔دنیا بھی ان کی ہو گئی آخرت بھی ان کی ہوگئی اور جو خالصہ اللہ قربانی کرتے ہیں، بڑھانے کی نیت سے نہیں کرتے ان کے مال بڑھائے ضرور جاتے ہیں اور جب بڑھائے جاتے ہیں تو اور زیادہ خدا کے حضور شکر کرتے ہوئے جھکتے ہیں اور زیادہ عطا کرتے ہیں۔ایک ایسی چیز ہے جو ان لوگوں کے درمیان، ان کے ایک گروہ کے درمیان ان کے دوسرے گروہ سے فرق کر دیتی ہے۔جن لوگوں کے مال اللہ اس جزا کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی بڑھاتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے اجر رکھے ہوئے ہیں وہ اس مال بڑھنے کے بعد اپنے چندوں میں اور بڑھتے ہیں۔جن کے مال عطا کے نتیجے میں نہیں بڑھتے بلکہ بعض دفعہ اللہ تعالی تعلق کاٹ لیتا ہے کہ تم دنیا میں پڑ گئے تو پھر پڑے رہو ان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل چھوٹے ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔مال بڑھتے ہیں دل تنگ ہو رہے ہوتے ہیں۔جس سے پتا چلتا ہے کہ محض اللہ ساری خدمتیں نہیں تھیں دنیا کی حرص غالب تھی خدا کی رضا نسبتا کم تھی۔پس اللہ نے دنیا عطا کر دی اور اپنی رضا کی طلب سے محروم رکھ دیا، اپنی رضا کی طلب کی تو فیق ہی نہیں دی۔پس ایسے لوگوں کو کبھی بھی طعن کی نظر سے نہ دیکھیں۔وہ مظلوم بے چارے مجبور ہیں، محروم ہیں۔ان پر رحمت کی نظر ڈالنی چاہئے۔اگر سمجھا سکے کوئی عزت نفس پر حملہ کئے بغیر، پیارا اور سلیقے سے تو ان کو بتا دے کہ پہلے جو تم نے کمائیاں کی تھیں وہ کون سی ہاتھ کی چالاکیاں تھیں۔تمہارے بزرگوں کی قربانیاں تھیں جن کے پھل تم کھا رہے ہو، کیوں آئندہ نسلوں کے لئے تم ویسی قربانیاں نہیں کرتے۔تم نے اپنے بڑوں کی قربانیوں کے پھل کھائے، کیوں اپنے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتے۔کیوں ان کے لئے ان کا خیال کر کے خدا کی خاطر قربانیاں نہیں دیتے۔اب یہاں بظاہر ایک دنیا نفس کی ملونی کا میں نے ذکر کر دیا ہے مگر بعض دفعہ مریض کو سمجھانے کے لئے چھوٹی بات بھی بتانی پڑتی ہے۔کوئی آدمی کہتا ہے پانی نہیں پی رہا مر رہا ہے تو کہے چلو میری خاطر پی لو حالانکہ اس کو اپنی خاطر ضرورت ہے۔وجہ اول