خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 586

خطبات طاہر جلد 14 586 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء کے مقابل پر ان کی تعداد کچھ بھی نہیں، بہت ہی معدودے چند لوگ ہیں۔ناروے اللہ کے فضل سے بہت ترقی کر رہا ہے ہر پہلو سے مالی قربانی میں بھی اس دفعہ اس کا نمبر دسویں نمبر پر ہے اور سوئٹزرلینڈ اگر چہ تحریک جدید کے چندے میں سب دنیا میں آگے ہے فی کس کے لحاظ سے لیکن اس قربانی میں ناروے سے بھی پیچھے ہے، جاپان سے بھی اور جاپان سے پیچھے رہنے کی کوئی حکمت سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ تعداد میں جاپان سے بہت زیادہ ہیں اور وہ جو آمدن کے وہاں ذرائع ہیں وہ جاپان سے کم نہیں ہیں۔اب نسبتی پہلوؤں سے بات کرتے ہیں تو گزشتہ تین سالوں میں نمایاں ترقی کرنے والی جو جماعتیں ہیں ان میں تشحیم خدا کے فضل سے قابل ذکر ہے۔چھوٹی سی جماعت تھی جس نے دیکھتے دیکھتے تبلیغ کے ذریعے بھی نشو ونما پائی اور چندوں کے ذریعے بھی بہت پہلے سے آگے بڑھ رہی ہے۔اگر تدریجی ترقی تین سالوں میں دیکھی جائے تو اس وقت سب سے زیادہ حکیم سب سے اول نمبر ہے۔فرانس کا دوسرا نمبر ہے۔سنگا پور تیسرا نمبر۔نئے آنے والے ممالک میں تھائی لینڈ ماشاء اللہ آگے آ گیا ہے۔پھر گوئٹے مالا نے بھی مالی پہلوؤں سے ترقی کی ہے۔بالکل نئی جماعت ہے لیکن خدا کے فضل سے وہاں کے مربی بڑی متوازن تربیت کر رہے ہیں اور مجھے توقع نہیں تھی گوئٹے مالا پانچویں نمبر پر پہنچ جائے گا مگر پہنچ گیا ہے۔سیرالیون کا چھٹا نمبر ہے اور یہ اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ بہت ہی مالی حالت خراب ہے اس ملک کی۔یعنی فاقہ کشی ہے اکثر جگہوں میں اور بسا اوقات عالمی مدد سے زکوۃ بھیج کر بعض غریبوں کو روٹی کھلانی پڑتی ہے۔پھر بھی جو کچھ بھی ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے چھٹے نمبر پر سیرالیون کا آنا ایک بہت ہی قابل قدر بات ہے اور دعاؤں کا محتاج ہے۔سورینام ساتویں نمبر پر ہے۔باقی تفاصیل پڑھنے کا وقت نہیں ہے، میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں۔مختصر صرف اتنا ہی کہوں گا کہ مالی قربانی کا جماعت کو جو اعزاز بخشا گیا ہے اس کی کوئی نظیر تمام عالم میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔کوئی مثال ہے ہی نہیں۔جس رنگ میں جماعت مالی قربانی پیش کر رہی ہے اور کرتی چلی جا رہی ہے اور جس رنگ میں ہمیشہ قدم آگے بڑھا رہی ہے اور جس دیانتداری سے اس نظام کی حفاظت کر رہی ہے، یہ تمام پہلو ایسے ہیں جو تمام دنیا کے لئے چینج ہیں۔بعض بڑے بڑے ممالک کی بڑی شخصیتوں سے بھی اس موضوع پر کئی دفعہ بات ہوئی ہے جب وہ تعجب سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو اتنے پیسے کہاں سے مل گئے۔جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ نظام کیا ہے تو