خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد 14 581 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء قدم کی بات ہے ساری جماعت اگر کوشش کرے اور ذمہ داری ادا کرے اپنی بھی اور دوسروں کی بھی، یعنی ذمہ داری ادا کرنے سے میری مراد یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو ابھی مالی قربانی کی اہمیت کی سمجھ نہیں آئی اور بہت سے ایسے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کے فضل سے نئے وسائل عطا کئے جاتے ہیں، جن کا رزق پہلے الگ نہیں تھا، ماں باپ پر ہی انحصار تھا لیکن ان کو رزق کے نئے وسائل عطا کئے گئے اور بسا اوقات ماں باپ کی یا عزیزوں کی اس طرف نظر ہی نہیں ہوتی ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس بچے کی ابھی تازہ تازہ کمائی ہے اس پر کیا مالی بوجھ ڈالنے ہیں۔اگر ان سب امور پر نظر رکھیں اور یہ بھی خیال کریں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ بہت سے ابھی ایسے نو مبائعین ہیں جن میں استطاعت ہے مگر ان کو ابھی توجہ نہیں دلائی گئی ، بہت سے ایسے مبائعین ہیں جو لکھو کھہا ہیں ، جن میں کچھ نہ کچھ دینے کی ضرور استطاعت ہے اور قطرہ قطرہ بھی دیں تو ایک مالی قربانیوں کا دریا بن سکتا ہے۔تو یہ تمام ایسے خلا ہیں جن پر اگر جماعت توجہ دے تو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آئندہ ایک دو سال کے اندر یہ اربوں کے دائرے میں داخل ہونا بالکل ناممکن نہیں ہے۔اس وقت جو صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ امسال اللہ کے فضل سے جماعت نے 77 کروڑ 58لاکھ 28 ہزار روپے کی قربانی پیش کی ہے۔روپے میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کسی ایک کرنسی میں ہمیں بہر حال ذکر کرنا ہے۔یعنی یہ تو نہیں ہو سکتا کہ دنیا بھر کی کرنسیوں میں بیان کروں اور پھر آپ موازنہ بھی کر سکیں۔کچھ سمجھ نہیں آئے گی آپ کو کہ کیا ہو رہا ہے۔بعض Currencies کی اتنی قیمت گری ہوئی ہے کہ وہاں پہلے ہی اربوں سے تجاوز ہو چکا ہے مثلاً انڈونیشیا میں جماعت کا کئی ارب روپے ہے چندے کا، تو آپ کہیں کہ الحمد للہ ارب تک پہنچ گئے لیکن ہم جب بات کرتے ہیں تو پاکستان کی تاریخ اور ہندوستان کی تاریخ کے حوالے سے کرتے ہیں۔اس تاریخ کے حوالے سے ہم بات کرتے ہیں جہاں آنوں سے بات شروع ہوئی تھی ، پیسوں سے بات شروع ہوئی تھی۔اس تاریخ کے حوالے سے بات کرتے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو، دو آنے ، چار، چار آنے کا شکریہ ادا کیا ہے، کتابوں میں ذکر کیا ہے، اللہ تمہیں جزا دے تم نے یہ قربانی دی۔پس اس حوالے سے جب بات کرتے ہیں تو اسی کرنسی کے اعدادوشمار پیش کرنے پڑیں گے تا کہ آغاز ہی سے ہم موازنہ کر سکیں۔اب تو اللہ کے فضل سے بہت بات آگے بڑھ چکی ہے۔حیرت انگیز طور پر جماعت کو اللہ تعالیٰ