خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 580

خطبات طاہر جلد 14 580 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء آئندہ سال کے پہلے خطبے کو پھر چونکہ جلسہ سالانہ بھی انہی ایام میں بعض دفعہ اسی مہینے میں آتا ہے اس لئے تجویز ہوا کہ جلسہ سالانہ پر جب جماعت کی عالمی خدمات اور ترقیات کا ذکر ہوتا ہے، مالی پہلوکو بھی اسی میں شامل کر لیا جائے۔لیکن امسال میں نے دیکھا کہ خدا کے فضل سے اتنی زیادہ ترقیات کے پہلو جماعت کے سامنے لانے پڑتے ہیں یعنی لائے جاسکتے ہیں اور لانے چاہئیں کہ مالی قربانی کے ذکر کے لئے وہاں کوئی گنجائش ہی نہیں تھی اس کے علاوہ بہت سے ایسے پہلو تھے جو رہ گئے۔تو آئندہ سے انشاء اللہ پھر پرانے طریق کو بحال کیا جائے گا اور ہر سال کے جوڑ پر یا اگلے مالی سال کے شروع خطبے میں یا اسی سال کے آخر پر انشاء اللہ مالی قربانی کے پہلو کی طرف توجہ دلائی جائے گی۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں چونکہ یہ مالی قربانی کے مختلف پہلوؤں پر حیرت انگیز طریق پر تفصیلی روشنی ڈال رہی ہیں اس لئے ان کا ذکر کچھ لمبا چلے گا اور اس کے علاوہ بھی کچھ آیات ہیں جو مد کے طور پر ان کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لئے میں نے انتخاب کی ہیں۔اس لئے میرا خیال ہے کہ پہلے میں یہ اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھ دوں ورنہ پھر ان کے لئے کوئی وقت نہیں بچے گا اور آیات کا مضمون تو پھر اگلے خطبے پر بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔اس لئے اس ترتیب کو بدلتے ہوئے جو پہلے دستور کی تھی پہلے آیات کی تشریح کی جاتی تھی بعد میں کوائف پیش کئے جاتے تھے، آج میں کوائف سے بات شروع کرتا ہوں۔دو سال پہلے 1992ء ، 1993ء کے اختتام پر میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ہم جلد از جلد کروڑوں سے اربوں میں داخل ہو جائیں اور یہ خواہش ہے جو بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔اور اس کی وجہ خلافت کے منصب سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ اس سے پہلے کا ایک استنباط تھا جس سے تعلق رکھتی ہے۔میں نے غور کیا جماعت کے ابتلاؤں پر اور ہر ابتلاء کے بعد خدا کے فضلوں کے نزول پر تو قطعی طور پر یہ بات روشن ہوئی کہ ایک ابتلاء کے بعد دوسرے ابتلاء تک اگر پہلے ہزاروں کی قربانی ہوتی تھی تو لاکھوں میں ہو چکی تھی۔پھر اس اگلے ابتلاء کے وقت اگر لاکھوں کی تھی تو پھر کروڑوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔پس اس دور میں اب ہمیں اربوں کا انتظار کرنا چاہئے اور بڑی تیزی سے جماعت اربوں کی طرف بڑھ رہی ہے اور 93 - 92ء میں پہلی دفعہ پچاس کروڑ یعنی نصف ارب تک خدا کے فضل سے چندے کی مقدار پہنچ گئی تھی۔تو جس رفتار سے بڑھ رہا تھا میں نے کہا اب دو چار