خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد 14 534 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء ہے۔پس دنیا کی زندگی میں ضروری چیزیں انسان کو لذت پہنچاتی ہیں جو عام دنیا کی چیزیں ہیں مگر مراد یہ ہے کہ انہی کا نہ ہورہنا۔ذکر الہی سے بھی لذت حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرو کیونکہ آخر پر پھر ذکر الہی رہ جائے گا، یہ مادی لذتیں یہیں رہ جائیں گی، یہ وہاں نہیں پہنچیں گی۔پس اس پہلو سے اپنی بھی تربیت کریں، اپنی اولادوں کی بھی تربیت کریں اور جلسے کے دنوں میں کوشش کریں کہ آپ کے مہمان زیادہ سے زیادہ وقت جلسے کے دوران جلسے ہی میں رہیں۔یہ نہ دیکھیں کہ تقریر کس کی ہے کیونکہ تقریر کسی کی بھی خدا کی خاطر ایک تیار کرنے والے نے آپ کی مہمانی کے لئے تیار کی ہے اور اس کو آپ کو قبول کرنا چاہئے اور ابتداء میں اگر طبیعت ، مزاج اس کے مطابق نہ بھی ہو طبیعت اس کے خلاف ہو یا نہ ہو مزاج کا پوری طرح تطابق نہ بھی دیکھیں آپ ، تب بھی رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ وہ مزاج پیدا کر دیتا ہے اور یہ بہت پرانا بچپن سے میرا تجربہ ہے کہ بسا اوقات ایک جگہ بیٹھے ہیں، کوئی خاص شوق نہیں تھا اس تقریر کو سنے کا محض اس لئے کہ ہونی ہے ، ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے چلو بیٹھ جاتے ہیں۔کئی ایسے مقرر ہوتے ہیں جو انسان کو پسند نہیں ہوتے مگر بیٹھنے کے بعد ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ نہ بیٹھتے تو محروم رہتے۔تیار کرنے والے بڑی محنت سے اللہ کی خاطر کچھ چیزیں تیار کرتے ہیں اور بڑے سے بڑا عالم بھی ان کو سن کر ضرور کچھ نہ کچھ فیض پاتا ہے۔ہر ایک کا ایک اپنا رنگ ہے، ہر ایک کا اپنا ایک ذوق ہے جس کے مطابق وہ چیزیں تلاش کر کے پیش کرتا ہے۔پس ایسی تقریروں کو جو آپ کے مزاج کے مقرروں کی طرف سے نہ ہوں حقارت سے دیکھنا، نظر انداز کر دینا ایک تکبر کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور فائدہ ضرور ہو گا آپ کو ، یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کی خاطر آپ بیٹھے ہوں اور فائدہ نہ ہو اور اگر کچھ بھی سمجھ نہ آئے کچھ بھی پتا نہ چلے کہ کیا ہو رہا ہے تب بھی بیٹھنا ہی بیٹھنا ہے کیونکہ محبوب کا ذکر ہے اور ایسے غیر ملکی ہم نے دیکھے ہیں امریکہ سے جو مہمان آیا کرتے تھے قادیان میں بھی اور ربوہ میں بھی یا باہر کے دوسرے ملکوں سے بھی پوری تقریر میں خواہ وہ نظام Translation کا ہو یا نہ ہو ، پوری تقریریں پورا وقت بیٹھ کر سنتے تھے۔آواز آتی تھی سمجھ کچھ نہیں آتی تھی مگر خدا کی خاطر بیٹھے رہتے تھے۔تو اگر باہر سے آنے والے وہ جو خالصہ خلوص سے اللہ کی خاطر سفر کرتے ہیں یہ نمونے دکھا سکتے ہیں کہ جو زبان نہ بھی سمجھ آتی ہو اس میں بیٹھے رہیں۔تو وہ لوگ جنہیں کچھ نہ کچھ وہ زبان سمجھ آتی ہے ان پر تو بدرجہ اولیٰ فرض ہے، ان پر تو