خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 523

خطبات طاہر جلد 14 523 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995 ء نہیں سکتا۔تو اللہ تعالیٰ نے غفور کی صفت پہلے رکھ دی ہے۔فرمایا کہ اس بات کی فکر نہ کرنا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، یہ دیکھنا کہ کس کے مہمان بن رہے ہو اور وہ غفور ہے، بہت بخشنے والا ہے اور اس لئے تمہارے گناہوں کا کوئی خیال تک بھی تمہارے اپنے دل میں نہیں آنے دے گا۔اس مغفرت کا سلوک فرمائے گا کہ تم اس کی مہمان نوازی قبول کرنے کے لئے ، اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اپنے دل کوصاف اور ستھرا پاؤ گے اس میں کوئی ایسے ضمیر کے کچو کے باقی نہیں رہیں گے جو ہر وقت مہمان نوازی کی شان کو گدلاتے رہیں۔میزبان تو خدمت کرتا جارہا ہے مگر مہمان اس بات میں دکھ محسوس کرتا ہے کہ میں کیا تھا، میں نے اس سے کیا کیا اور یہ ایک طبعی امر ہے۔آنحضرت ﷺ کے تعلق میں بھی صحابہ میں یہ مثال ملتی ہے کہ اسلام لانے سے پہلے جو آنحضرت ﷺ کو دکھ دئے گئے یا جن لوگوں نے دیکھ دیئے اسلام کے بعد حیا سے ان کی نظر نہیں اٹھتی تھی۔رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دیکھ نہیں سکے کیونکہ یہ حیا ہمیشہ مانع تھی ، یہ تصور چر کے لگا تا تھا کہ اس وجود کے ساتھ تم یہ یہ کرتے رہے ہو اب کس نظر سے تم اسے دیکھنے کا حق رکھتے ہو۔چنانچہ ایسے صحابہ کا ذکر ملتا ہے جو وصال کے بعد یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا حلیہ کیا تھا وہ وجہ یہ تھی۔تو غفور کا بہت گہرا تعلق ہے خصوصاً اللہ کے تعلق میں غفور کا مہمان نوازی سے بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ گناہ گار بندے حاضر ہورہے ہیں اگر اللہ ان کو یاد نہ بھی دلائے تو اپنا ضمیر تو ضرور یاد دلائے گا کہ کس پاک وجود کے سامنے تم حاضر ہو، کس طرح تمہاری خدمت کی جارہی ہے ہم کیا تھے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ غفور ہے وہ بخش دے گا اور یہ مضمون مسلسل آگے جاری رکھا ہے۔چنانچہ دیکھئے فرماتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ اوَوْا وَنَصَرُوا أُولَيكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال : 75) پہلے مغفرت فرمایا پھر رزق کریم بتایا۔رزق کریم سے مراد ہے کریم کی طرف سے پیش کردہ رزق۔یہاں رزق کا تعلق ربوبیت سے یا صفت رزاقیت سے نہیں باندھا بلکہ کریم لفظ سے باندھا ہے جس میں مہمان نوازی کا مضمون پایا جاتا ہے۔چنانچہ عربی میں مہمان نوازی کا محاورہ اکرام الضیف ہے یعنی مہمان سے ایسا سلوک کہ وہ اپنی عزت محسوس کرے اور یہ لفظ کریم دونوں طرف برابر اطلاق