خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد 14 522 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء عادات کا علم ہے تو جس حد تک بھی ان کی خواہشات کا آپ کو علم ہو ان خواہشات کو پورا کرنے کے لئے سامان مہیا کرنے کی کوشش کریں اور اگر مہمانوں کے مختلف کمرے ہیں تو ہر کمرے میں ان کے مزاج کی چیزیں ہونی چاہئیں لیکن ان کا تعلق تو فیق سے بھی ہے۔توفیق سے بڑھ کر مہمان نوازی کا حکم نہیں ہے۔ہاں اگر تمنا ہو کہ جس طرح اللہ مہمان نوازی کرتا ہے میں بھی کروں اور اس جذبے کے ساتھ انسان کوشش کرتا ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس کی یہ تمنا ہی اس کی توفیق بڑھا دے گی اور اس کے رزق میں برکت پڑے گی اور اللہ تعالیٰ اس کو واقعہ یہ توفیق بخشے گا کہ اپنے آنے والے پیاروں کی خواہش کے مطابق اپنی خواہشوں کو پورا کرے یعنی ان کی خواہش اس لئے پورا کرے کہ اس کی اپنی خواہش اس سے پوری ہوتی ہو اور پھر تَدَّعُونَ کا مضمون تو واضح ہی ہے۔یہ ماحول پیدا کرنا اخلاق حسنہ کا محتاج ہے۔اس قدر اپنائیت پیدا کرنی چاہئے کہ بیچ سے تکلف کے پردے اٹھ جائیں اور پھر صحیح مہمان نوازی ہوتی ہے۔آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَّحِيمٍ کہ یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمان نوازی ہے۔تو میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ مغفرت کا اس سے کیا تعلق ہے۔جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے اس کا مغفرت سے بہت گہرا تعلق ہے۔جہاں تک انسانی ذات کا تعلق ہے اس کا بھی ایک حد تک مغفرت سے تعلق ہے مگر خدا تعالیٰ کا خصوصیت کے ساتھ کیونکہ وہ مہمان جو سابق میں دشمن رہ چکا ہو، وہ مہمان جس نے اپنی طرف سے پہلے بہت کوشش کی ہو کہ دکھ پہنچائے ، دل آزاری کرے، مخالفانہ رویہ اختیار کرے، اس کے سابقہ طرز عمل کو یا بسا اوقات مہمان نوازی کو میلا کر دیتی ہے اور عملاً انسان کے لئے بہت مشکل ہے کہ ایک ایسے مہمان سے بھی اس طرح خوش اخلاقی کا سلوک کرے جس طرح ایک ایسے مہمان سے کرے جو پہلے ہی اس سے محبت کے رشتے بڑھا چکا ہو، اس کے لئے قربانیاں کرتا رہا ہو۔تو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے والے جتنے بندے ہیں وہ ہیں بنیادی طور پر گناہ گار اور اگر محض عدل سے دیکھا جائے تو کوئی بھی بخشا نہیں جائے گا یہاں تک کہ اولوا العزم انبیاء بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بخشش تو محض اللہ کے کرم سے ہوگی، اللہ کے فضل اور رحم کے ساتھ ہوگی ورنہ حقیقت میں کوئی انسان استحقاق کے طور پر بخشش طلب نہیں کر سکتا اور بخشش نہ ہو تو پھر مہمان نوازی جس قسم کی بھی ہوگی وہ سب میلی اور کھلائی ہوئی مہمان نوازی ہوگی اس میں وہ بے اختیار لذت، بے ساختہ لطف پیدا ہو ہی