خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 518

خطبات طاہر جلد 14 518 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء اس کو ایک جان گسل غم لگ جائے گا، اس کی جان کو کھانے لگ جائے گا۔یہ کیفیت تھی جس کی وجہ سے صلى اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کو بار بار نصیحت فرماتا ہے کہ حزن نہ کر۔جیسا آدمی اپنے پیارے پر نظر کرتا ہے اس کو کہتا ہے دیکھو صبر کر ، تکلیف میں نہ پڑ۔یہ تو نہیں کہ حکم ہے۔اگر اس نے کہا کہ نہیں میں نے تکلیف محسوس کرنی ہے تو آپ ناراض ہو جائیں کہ میری بات نہیں مان رہے۔پیار کا انداز ہے، ایک محبت کا اظہار ہے، یہ بتانا ہے کہ میری تیرے ہر حال پر نظر ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ کس غم میں تو گھل رہا ہے اور دوسری جگہ فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعرا:4) اتنا غم کہ تو اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوتے۔یہ صبر ہے جس کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ کیونکہ تیرا تمام تر صبر صرف اللہ کی خاطر ہے اس لئے اس میں حسن ہی حسن ہے اس میں کوئی بد پہلو نہیں ہے، کوئی بد زیبی نہیں ہے۔پس یہ وہ صبر ہے جسے ہمیں اختیار کرنا ہوگا دکھوں کے مقابل پر ان کے لئے درد محسوس کرنا ہوگا۔وَلَا تَحْزَنْ کا یہ استنباط نہ کریں اس سے کہ کوئی غم محسوس نہ کرنا جو مرضی ان کو ہو جائے۔مراد یہ ہے کہ ایسا غم محسوس کریں کہ آسمان سے آواز آئے وَلَا تَحْزَنُ اے میرے بندے اب اپنے آپ کو مزید نہ رلا۔یہی وہ آواز ہے جو تسکین پیدا کرتی ہے۔جو غم نہ کرنے کا حکم نہیں دیتی غم کے سامان اڑا دیا کرتی ہے یہی وہ وَلَا تَحْزَنْ والا مضمون تھا جس نے آخر عرب کی کایا پلٹ دی اور تمام عرب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دیکھتے دیکھتے مسلمان ہو گیا یعنی حزن کا مقام ہی باقی نہیں رہا۔پس اللہ میں ان معنوں میں خدا تعالیٰ سے صبر سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے صبر میں اُولُوا الْعَزْمِ کی شان ہو، ہمارے صبر میں کمزوری اور بے چارگی نہ ہو۔طاقت کے ہوتے ہوئے بھی ہم ظالم کے لئے رحم چاہنے والے ہوں اور صبر کے ساتھ چمٹے رہیں۔اگر ہم ایسا کریں گے تو یقینا وہ اجر عظیم ضرور ہمیں عطا ہوگا جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین