خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 43

خطبات طاہر جلد 14 43 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 1995ء بلکہ ایک جاری مضمون ہے جو صرف مسلمانوں ہی سے نہیں تمام دنیا کے انسانوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے ایک ایسا بنیادی اصول ہے جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔اس کا لفظی یا کچھ با محاورہ ترجمہ تو یوں بنے گا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدِ اور ہر جان اس بات کی نگرانی کرے کہ وہ آگے کیا بھیج رہی ہے ، کل کے لئے آگے کیا بھیج رہی ہے۔وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ پھر ہم تمہیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ وہ جوتم اعمال بجالاتے ہو ان سے واقف ہے ان سے خوب باخبر ہے۔یہ مضمون کئی دفعہ بیان ہوالیکن ہر دفعہ بار بار بیان کرنے کا محتاج ہے کیونکہ اس کا قوموں کے عروج اور ان کے تنزل سے یعنی ان کی اخلاقی قدروں کے عروج اور تنزل سے بہت گہرا تعلق ہے۔فرمایا ہے تم اس بات کے نگران ہو اور ذمہ دار ہو کہ اپنے بعد پیچھے کیا چھوڑ کر جاؤ گے۔کل سے مراد آنے والا کل جو اس دنیا کا کل بھی ہے اور اس دنیا کا کل بھی ہے جو مرنے کے بعد ہم دیکھیں گے۔تو لفظ غد نے اس زمین کا بھی احاطہ کیا ہوا ہے اور اگلی دنیا کا بھی احاطہ کیا ہوا ہے اور ان اعمال کا اس دنیا سے بھی تعلق ہے اور اس دنیا سے بھی اور مستقبل میں یہ تعلق قائم رہے گا جو آج ہم اعمال کر رہے ہیں اور ہم سے وہ اعمال رونما ہورہے ہیں۔تو ہمارے آج کے اعمال کتنا لمبا اثر دکھائیں گے اور کتنا لمبا اور دیر پا اثر ان کا آئندہ جاری و ساری رہے گا۔اس دنیا میں بھی ہماری نسلیں اس اثر کو دیکھیں گی اور آنے والی دنیا میں بھی ہم خود اور ہماری نسلیں اس اثر کو دیکھیں گی۔اس لئے بعد میں متنبہ فرمایا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ اللہ کو خبر ہے بعض دفعہ تمہیں خبر نہیں ہوتی کہ تمہارے اعمال کے کیا اثرات مترتب ہورہے ہیں۔اس کے بعد اگلا پہلو دوسری آیت میں یوں بیان ہوا۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللهَ فَانسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ یہ دراصل نئی بات نہیں ہے بلکہ اس کا ایک اور پہلو ہے، اسی مضمون کا جو پہلے بیان ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو خدا کو بھلا دیتے ہیں فَانْسُهُمْ أَنْفُسَهُمُ تو یہ ان کا خدا کو بھلانا دراصل ان کے اپنے نفس کو بھلانے کے مترادف ٹھہرتا ہے ، اللہ ان کو خود اپنے حال سے بے خبر کر دیتا ہے۔یہاں اَنْفُسَهُمُ میں خود ان کی اپنی ذات شامل ہے اور وہ بچے جن کے وہ نگران ہیں ، وہ نسلیں جن کو وہ آگے بھیج رہے ہیں یہ سب اَنْفُسَهُمْ کے اندر داخل ہیں اور قرآن سے یہ