خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 468
خطبات طاہر جلد 14 468 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء جو قرآن کریم کی یہ آیت کھینچ رہی ہے۔پس بِقَدَرِهَا کا مضمون بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔اپنی توفیق کو بڑھاؤ اور اپنی توفیق میں سیلاب پیدا کرنے کی صلاحیت داخل کرو اگر تمہارے اندر سیلاب آ گیا تو پھر علاقے پر یہ ضرور انڈے گا اور یہ چیزیں جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں لازماً پیدا ہوں گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو ایک چھوٹی سی وہ کٹھالی جس میں سنا رسونے کو یا قیمتی دھاتوں کو پگھلاتا ہے، چھوٹی سی چیز کے اندر بھی تو سیلاب آجاتا ہے اور ہوتا وہی ہے جیسے آسمانی پانی کے اترنے سے سیلاب کے نتیجے میں ہوتا ہے جھاگ وہاں بھی پیدا ہوتی ہے لیکن وہ Excitement کے ذریعے ہے۔اب جتنے بھی Scientists ہیں وہ جانتے ہیں کہ خواہ وہ Phyiscal Reaction ہویا Chemical Reaction ہو جب تک مالیکولز اور ایٹمز Excited سٹیٹ میں نہ ہوں اس وقت تک Reaction نہیں ہو سکتا۔جتنے ٹھنڈے ہوں گے اتنا ہی Reaction کم ہوتا چلا جائے گا ہے یہاں تک کہ ایک ایسا ٹمپریچر آجاتا ہے جس میں جا کر آپس میں وہ ایک دوسرے پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اسی لئے جب درجہ حرارت کو بڑھا دیا جاتا ہے تو زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔پس یہ جو درجہ حرارت کا گرنا ہے ایک ایسی حد تک پہنچ جانا اس میں پھر Activity نہ رہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جو کیمیائی مادے ہیں جن میں ماحول کو تبدیل کرنے کی طاقت ہے ان میں وہ صلاحیت ہے ہی نہیں۔وہ مومن جو حقیقت میں مومن ہیں جو آسمان سے اتر نے والے پانی کے نگران مقرر کئے گئے نگہبان بنائے گئے، ان کا درجہ حرارت اگر گر جائے تو وہی کیفیت ہوگی جو Unexcited State میں کیمیکلز کی ہوتی ہے درجہ حرارت گر گیا ہے۔مادوں میں صلاحیت تو ہے کہ ساتھ کے کیمیکلز سے React کرے اور کچھ اور بنا دے مگر جان ہی نہیں تو حرکت کیسے کرے گی۔پس جتنی بھی دنیا میں تبلیغ کرنے والی جماعتیں ہیں ان کا Excite ہونا بہت ضروری ہے اور سیلاب کی کیفیت میں یہی Excitement دکھائی گئی ہے اور قرآن کریم نے جو دوسری مثال دی ہے وہ پانی کے برعکس ہے۔Excitement دو طرح سے ہوتی ہے ایک آسمان سے پانی اترنے کے نتیجے میں اور پانی کا ایک اپنا جوش ہے اور دوسرے آگ کا جوش ہے۔دوسری مثال آگ کے جوش کی دی ہے کہ وہ اس پر پھونکتے ہیں دھونکنیاں بنا کر ان پر آگ پھونکتے ہیں کہ کسی طرح اس مادے میں حرکت ہو اور جو کھوٹ ملا ہوا ہوسونے میں وہ جھاگ کے