خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد 14 467 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء صلاحیتوں کے مالک اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ پھر مستقل زمین کا فائدہ دینے والا حصہ بن جاتے ہیں۔یہی حال اس وقت ساری دنیا میں تبلیغ میں دکھائی دے رہا ہے کوئی بھی استثناء نہیں۔جہاں جہاں بھی یہ مہمات چلی ہیں وہیں مخالفت کا شور بھی اُٹھا ہے۔وہاں تکلیفیں بھی پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے اور کئی جگہ پہنچائی گئی ہیں۔مگر یہ جھاگ جو ہے یہ نقصان کوئی نہیں پہنچا سکتی۔آہستہ آہستہ ایک کنارے لگ گئی یا لگتی چلی جارہی ہے لیکن تبلیغ کے نتیجے میں ان علاقوں کی جو مخفی صلاحیتیں تھیں، وہ مدفون تھیں ایک طرح سے ان کو سیلاب نے اُٹھایا ہے اور اٹھا کر پھران کا انتظار کیا ہے۔جو زرخیز وادیاں نہیں تھیں وہاں بھی پہنچادیا ہے۔یہ سلسلہ اب چل نکلا ہے اور اس زور سے کل عالم میں رونما ہو رہا ہے کہ واقعہ بعض علاقوں میں سیلاب کی سی کیفیت ہے جو رپورٹیں آرہی ہیں ان سے آدمی یہ پڑھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ وہ جگہیں جہاں گزشتہ پچاس سال میں دس ہزار بھی احمدی نہیں ہوئے تھے وہاں چند مہینے کے اندر اندر پچاس پچاس ہزار ہو گئے ہیں اور بعض جگہ ایک لاکھ سے اوپر چلے گئے ہیں۔وہی علاقے ہیں وہی لوگ ہیں آسمان کا پانی بھی تھا لیکن یہ سیلاب کی کیفیت نہیں تھی کیونکہ بِقَدَرِکا کی شرط پوری نہیں ہوئی تھی آسمان سے جو پانی اتر تا ہے۔اسے وادی اپنی حیثیت اور توفیق کے مطابق لے کر پھر اس کا سیلاب بناتی ہے جن دلوں میں وہ نازل ہوا ہے وہ تو مومن دل ہی ہیں اگر ان میں کوئی ہنگامہ نہ ہو۔ان میں وہ پانی بھر کر ایک سیلاب کی کیفیت پیدا نہ کرے تو وہ فوائد جو قرآن کریم کی آیت ہمارے سامنے رکھ رہی رہے۔وہ حاصل نہیں ہو سکتے۔پس جو ایک Excitement کی کیفیت ہے وہی ہے جو انقلاب برپا کیا کرتی ہے اور ٹھنڈے ٹھنڈے دل جو ہیں ان سے کبھی بھی دنیا میں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔حضرت مصلح الموعودؓ نے اپنے ایک شعر میں فرمایا کہ: عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہوا گر مل جائیں مجھے دیوانے دو ( کلام محمود:154) تو تبلیغ میں دیوانگی کی جو ضرورت ہے یہ اسی لئے ہے کہ اس سے Excitement پیدا ہوتی ہے اور Excite ہوئے بغیر نہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ لوگوں میں توجہ پیدا ہوتی ہے۔دیوانگی سے ہوتی ہے، جب ایک جوش پیدا ہو جائے تو آپ کے ساتھ علاقہ جاگ اُٹھتا ہے۔مولوی جو دبے بیٹھے تھے وہ بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور یہی منظر سامنے آتا ہے۔