خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد 14 446 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء سعادت ہوا کرتی ہے اور صرف ان کی شمولیت نہیں جو نیکی کی غرض سے آتے ہیں۔ایسے بابرکت لوگ جو اللہ کے ذکر کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں ان کے ساتھ مسافر بھی اگر آ بیٹھے تو اس کو برکت مل جاتی ہے۔پس یہ جو مضمون ہے یہ میرے نفس کا بنایا ہوا نہیں۔حضرت اقدس محمد اللہ کی طرف سے خوشخبری ہے کہ اللہ کے ذکر کے لئے اکٹھے ہونے والوں کے پاس بیٹھنے والے خواہ وہ اس نیت سے نہ بھی بیٹھے ہوں وہ بھی برکتوں سے حصہ پا جاتے ہیں۔پس اللہ ان سب کے لئے جو ان جلسوں میں شمولیت فرما رہے ہیں۔یہ شمولیت دین و دنیا ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔جہاں تک ان کے نام پیغام کا تعلق ہے وہ پیغام میں اس خطبے کے مضمون ہی میں دوں گا جو پچھلے خطبات کی ایک کڑی ہے اور یہ سلسلہ جو چل رہا ہے یہ صفات باری تعالیٰ یا اسماء الہی کا سلسلہ ہے۔آج میں گزشتہ جمعہ کے مضمون ہی کو آگے بڑھا رہا ہوں۔یعنی حق ذات سے متعلق میں مزید کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔الحق خدا کا نام ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا سورہ فاتحہ کی تمام صفات سے سیہ نام تعلق رکھتا ہے اور ان سب کے ملنے کے اجتماعی اثر سے کامل حق کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔وہ ذات جوان تمام صفات حسنہ سے مزین ہو جو حد سے شروع ہو کر مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک بیان ہوئی ہیں۔ان کا لازمی اور قطعی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ ذات حق ہے حق کے سوا ہو ہی نہیں سکتی۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے یہ تو سمجھ آئی مگر ہمیں کیسے فائدہ پہنچے گا اور ہم حق سے تعلق جوڑ کر کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں اور کی ذ مہ داریاں ہیں ہم پر جو ہمیں ادا کرنی ہوں گی۔جس کے نتیجے میں ہم حق کا فیض پاسکتے ہیں۔اس سلسلے میں دو حصوں میں میں نے اپنے مضمون کو تقسیم کیا ہے۔ایک وہ جہاں حق کا تعلق غیروں سے ہوتا ہے یعنی ان معنوں میں کہ وہ لوگ جو حق کے بندے بن جاتے ہیں۔ان کو غیروں کے مقابل پر کیا کیا فتوحات نصیب ہوتی ہیں۔اس کا ایک تعلق ہے جس کو ہم دعوت الی اللہ کہتے ہیں۔اس مضمون سے تعلق ہے اور دوسرا تربیت سے تعلق ہے کہ حق ذات سے تعلق جوڑا جائے تو انسان کے اندر کیا کیا پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں اور ان کے نتیجے میں اس کے اندر ایک اندرونی انقلاب کی بر پا ہوتا ہے۔تو پہلے میں دعوت الی اللہ کے ذکر کو لیتا ہوں اور چونکہ یہ دونوں ممالک جن کے جلسوں کا آج اعلان ہوا ہے دعوت الی اللہ کے لحاظ سے ابھی بہت حد تک پیچھے ہیں اور اہمیت کے لحاظ سے بہت ہی اہم ممالک ہیں، دنیا کی تقدیر پر اثر انداز ہونے والے ممالک ہیں امریکہ کا تعلق تو آج کل