خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد 14 442 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء آگے نہیں بڑھتے تو جو بھیجنے والا بھیجتا ایسے ہے جو زیادتی نہیں کر سکتے اس سے زیادتی کیسے متصور ہوسکتی ہے۔تو وہ کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گالَهُ الْحُكْمُ حکم اس کا ہے فیصلہ اسی کا چلے گا۔وَهُوَ اَسْرَعُ الْحَسِبِيْنَ اور حساب میں بہت تیز ہے۔مہلت زندگی تک ہے زندگی کے بعد پھر اس کو حساب میں دیر کوئی نہیں لگے گی۔پھر وہ کامل قدرتیں رکھنے والا خدا ہے، وہ قاہر ہے۔وہ قاہر کے طور پر بھی ظاہر ہوگا، وہ کامل حق کے طور پر بھی ظاہر ہوگا اور مولاهم الحق میں یہ بیان فرمایا کہ اگر تم نے بچنا ہے تو حق کو مولیٰ بناؤ۔مولیٰ کا مطلب ہوتا ہے جو والی ہو، جو بچانے والا ہو ، جو تحفظ دینے والا ہو۔تو فرمایا حق مولیٰ کی طرف جاؤ گے۔اگر تم نے اس دنیا میں حق کو اپنانہ بنایا اور حق سے تعلق نہ باندھا تو اس دنیا میں پھر وہ تمہارا مولیٰ نہیں بنے گا۔اس لئے اگر بچنا ہے تو حق کو مولی بناؤ گے تو بچو گے ورنہ نہیں بچ سکتے۔جن لوگوں نے جھوٹ کو مولا بنایا ہو، دنیا میں ہر مشکل کے وقت جھوٹ کی پناہ لیتے ہوں ، ہر حرص کے وقت جھوٹ کی پناہ لیتے ہوں، ہر حمد کی تمنا میں جھوٹ کی پناہ لیتے ہوں، ہر مؤاخذے سے بچنے کے لئے جھوٹ کی پناہ لیتے ہوں، جن کا اندر باہر ساری زندگی کا نظام جھوٹ پر پل رہا ہو وہ یہ کہیں کہ قیامت کے دن ہمیں حق پناہ دے دے گا تو یہ جھوٹ ہے، یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور قرآن کریم اس کی مثال بھی پیش کرتا ہے۔تو بے وقوف ایسے بھی جھوٹے ہوں گے جو قیامت کے دن بھی خدا کی پناہ میں آنے کی بجائے جھوٹ کی پناہ میں بھی جانے کی کوشش کریں گے لیکن چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے اس لئے انشاء اللہ یہ بقیہ مضمون میں اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔اتنا کہنا بہت کافی ہے کہ حق سے تعلق رکھے بغیر نہ اس دنیا میں کوئی کامیابی ہوسکتی ہے نہ اُس دنیا میں کامیابی ہوسکتی ہے۔لازماً ہمیں کچی جماعت کے طور پر ابھرنا ہوگا اور سچائی کو جب تک ہم ہر احمدی کے اندر اس طرح راسخ نہ کر دیں کہ اس کی فطرت ثانیہ بن جائے یا فطرت اولیٰ کی طرف وہ لوٹ آئے کیونکہ فطرت اولی حق ہی تھی۔یہ کہنا غلط ہے کہ فطرت ثانیہ بن جائے یوں کہنا بہتر ہے کہ یہاں تک کہ وہ اپنی فطرت اولی ، اول فطرت کی طرف لوٹ آئے اس وقت تک ہم حقیقت میں نہ اس دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں نہ اس دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی طرف سے فوز عظیم عطا فرمائے۔آمین اب میں اس خطبے کے اختتام سے پہلے یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ایک بہت ہی