خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 440
خطبات طاہر جلد 14 440 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء ہیں اور پھر بھی اللہ نہیں مٹاتا ہے۔فرماتا ہے اگر اللہ چاہتا تو تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں ہی نہیں بلکہ سارے جانداروں کو مٹا دیتا، ایسے ایسے بڑے تم گناہ کرتے ہو۔چونکہ حمید ہے غیر معمولی حوصلہ ہے غیر معمولی حلم ہے اس لئے قاہر ہونے کے باوجود اس کا منفی اثر ظاہر نہیں ہوتا بلکہ محض مثبت اثر ظاہر ہوتا ہے اور قاہر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کسی انسان کو مٹانے کی استطاعت نہ ہو کسی چیز کو مٹانے اور نقصان پہنچانے کی استطاعت نہ ہواگر استطاعت ہی نہیں تو اس کو قاہر نہیں کہہ سکتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِہ اپنے بندوں پر وہی ہے جو قاہر ہے۔کامل اختیار رکھتا ہے اور اگر سزا دینا چاہے اور اگر مٹانا چاہے تو اس کی تقدیر جوموت وارد کرتی ہے، اس کی تقدیر جو زندگی سے موت کی طرف لے جاتی ہے وہ تو جاری ہے ہر قدم پر وہ مٹ سکتا ہے۔اس وجہ سے وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً اس نے تمہاری حفاظت کی خاطر انتظام کر رکھا ہے کہ میری تقدیر کے ہاتھوں از خود نہ مٹ جاؤ اور یہی وہ مضمون ہے جو قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے کہ تم گناہ ایسے ایسے کما رہے ہو، ایسے ایسے کما چکے ہو کہ اگر تمہارے ساتھ جانوروں کی بھی صف لپیٹ دی جاتی تو جائز ہوتا۔اس کے باوجود کوئی چیز اس کو روکے ہوئے ہے اور قرآن کریم اس مضمون کو دوسری جگہ یوں بیان فرماتا ہے۔لَهُ مُعَقِبَتْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ الله (الرعد: 12) ہر انسان کے لئے جو ظاہر میں چلتا ہے یا چھپ کے چلتا ہے، رات کو نکلتا ہے یا دن کو نکلتا ہے خدا تعالیٰ نے حفاظت کے لئے آگے اور پیچھے نگران مقرر کر رکھے ہیں جو اس کو بچارہے ہیں۔کس چیز سے؟ مِنْ أَمْرِ اللہ اللہ کے امر سے بچار ہے ہیں۔عام طور پر جو تر جمہ کرنے والے ہیں اس ڈر سے کہ اوہو یہ کیسے مطلب ہو سکتا ہے کہ اللہ کے امر سے کوئی بچائے وہ اس کا ترجمہ کر دیتے ہیں کہ اللہ کے حکم سے ان کو بچایا جارہا ہے حالانکہ عن امر اللہ نہیں ہے مِنْ اَمرِ الله ہے اور مِنْ کا محاورہ میں نے ایک دفعہ پہلے بھی قرآن کریم سے نکال کے دکھایا تھا۔جہاں جہاں بھی آیا ہے وہاں اس امر سے حفاظت کا مضمون ہے،اس کی وجہ سے نہیں۔پس یہاں کیا کیا مضمون ہے۔دراصل تقدیر الہی ہی ہے جو زندگی بخشتی ہے اور تقدیر الہی ہی ہے جو موت بخشتی ہے۔کسی کو تو مرنے کا بھی اختیار نہیں اگر تقدیر الہی نہ ہو تو۔تو اگر خدا کی تقدیر سے