خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 414

خطبات طاہر جلد 14 414 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء قربانیاں کرنے والے موجود ہیں لیکن کچھ عرصہ ان سے اس طرح کھلم کھلا قربانیاں قبول کرنے کے بعد میں نے ان کو روک دیا اور جماعت کو اجازت نہیں دی کہ اب ان سے کچھ وصول کیا کریں جیسے از خود وہ وصول کیا کرتے تھے۔اس میں یہ حکمت ہے جو صفات باری تعالیٰ کو سمجھنا اور ان کے مطابق عمل کرنا۔وہ جب خرچ کرتے تھے تو رفتہ رفتہ ان کا جماعت میں ایک مقام ابھرا اور جماعت کی نظر ان پر پڑنے لگی گویا کہ وہ غنی ہیں اور اس کا دوہرا نقصان ہوا۔جو چندے دینے والے عام لوگ تھے وہ سمجھتے تھے کہ جب بھی ضرورت پڑے جماعت ان کے حضور حاضر ہو جایا کرے گی، ان سے ضرورتیں پوری ہو جائیں گی اور عام آدمی کا قربانی کا معیار بڑھانے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ساری جماعت پر اس کا ایک گہرا منفی اثر پڑا اور ان کے ایمان کے لئے بھی خطرہ تھا، ان کے عجز ، انکسار ، ان کے خلوص کو بھی خطرہ لاحق تھا۔چنانچہ جب یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اگر ہر دفعہ ایسے موقع پر ان کو اجازت دی جائے کہ وہ آگے بڑھ کر ساری جماعت کی ضرورتیں پوری کریں تو نعوذ بالله من ذالک شیطان ساتھ لگا ہوا ہے ان کے اندر کہیں یہ دماغ میں کیڑا نہ آجائے کہ ہم غنی ہیں اور دین کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے یہ لوگ ہماری طرف جھکتے ہیں۔تو وہی مضمون کہ ہم غنی ہیں اور اللہ محتاج ہے۔یہ بعض دفعہ شعوری طور پر ، بعض دفعہ لاشعوری طور پر انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔تو ان دونوں حکمتوں کے پیش نظر میں نے جماعت کو نصیحت کی کہ ان کے پاس اپنی ضرورتوں کے لئے آپ نے ہرگز نہیں جانا آپ کو اجازت ہی نہیں ہے۔از خودا گر یہ شوق سے کچھ پیش کرنا چاہیں تو مجھے لکھیں اور میں اس کو جماعت کو واپس کروں گا۔جس طرح چاہوں ، چاہے ان کا نام لوں یا نہ لوں۔اس کے بعد کچھ تو ازن میں معاملہ آگیا۔ان کے خرچ بھی اعتدال پسند ہو گے اور وہ جو بڑھ بڑھ کر غیر معمولی ضرورتیں پوری کرنے کا جو شوق تھا وہ مناسب حد اعتدال تک اتر آیا اور عمومی طور پر توجہ نسبتا پہلے سے زیادہ چندوں کی طرف ہوئی۔چنانچہ بنگلہ دیش کے چندوں کو آپ دیکھیں تو جب سے یہ ذرائع اختیار کئے گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے کمی نہیں کی ، چندوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن بعض اور ایسے پہلو ہیں جن کی طرف ابھی اصلاحی توجہ نہیں ہو سکی۔جن کے متعلق اب میں اعلان کرنا چاہتا ہوں اور اس کے نتیجے میں بعض پہلوؤں سے جماعت کا نقصان جاری ہے۔وہ پہلو یہ ہے کہ اللہ جو حمید ہے یہ صرف پیسے کے معاملے میں غنی اور حمید نہیں ہے بلکہ خدمات کے معاملے میں بھی غنی اور حمید ہے۔اگر کسی ڈر سے انسان یہ سمجھتے