خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 413

خطبات طاہر جلد 14 413 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء اپنی نیت کچھ بھی ہوا میر جب اپنی بلندی سے ایک غریب کو تحفہ پیش کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کا دل اس کی تعریف، اس کی محبت سے بھر جاتا ہے کہ دیکھو اس غریب کے پاس کچھ بھی نہیں پھر بھی اتنا تعلق ہے مجھ سے کہ میری خاطر قربانی کر کے یہ سب کچھ لایا ہے اور پھر انسان اس کے نتیجے میں اس پر بہت مہربان ہو جاتا ہے یعنی اگر کوئی شریف النفس ہو تو وہ اس سے بہت مہربانی کا سلوک کرتا ہے۔اللہ جو غنی ہے جس کے پاس سب خزانے ہیں جب وہ اپنے بندوں کو موقع دیتا ہے کہ تمہیں جو میں نے دیا ہے اس میں سے کچھ پیش کرو تو اس لئے نہیں کہ وہ ضرورت مند ہے۔واقعہ یہ ہے کہ امیر سے امیر آدمی بھی کسی نہ کسی پہلو سے ضرورت مند بھی رہتا ہے اور وہ حمید نہیں ہوتا۔مگر اللہ تو حمید ہے اسے تو ادنیٰ بھی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے جب وہ کسی ضرورت مند کو اپنے حضور کچھ پیش کرتے ہوئے دیکھتا ہے اور اس سے اس کا تعلق غنی کا استغنا کی صورت میں نہیں رہتا ہے بلکہ حمید دولت مند کے طور پر یہ ہوتا ہے جو صاحب تعریف ہے اور صاحب تعریف ہونے میں یہ بات لا زم ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہت بڑھ کر عطا کیا جائے۔تو اس پہلو سے جو ہمارا چندوں کا نظام ہے۔اس میں غنی و حمید کوسمجھنا ضروری ہے لیکن اگر کوئی غنی کو پیش کرے لیکن دل میں خساست ہو، چاہتا ہو کچھ پیش بھی ہو جائے نام بھی لکھا جائے لیکن میری چیزوں میں کمی نہ آئے ، کمی آئے تو میری خبیث چیزوں میں آئے ، کھانا گل سڑ رہا ہے کیوں نہ اس کو فقیر کو دے کر اس کی بد بو سے نجات پائیں اور اللہ کی رحمت بھی حاصل کر لیں۔یہ جو چیز ہے یہ بھی غنی سے ایک تعلق قائم کرتی ہے مگر استغناء کا تعلق۔اللہ ایسے شخص میں ان معنوں میں غنی ہوتا ہے کہ وہ مستغنی ہو جاتا ہے اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی اس کی۔وہ خدا کے نام پر گندی چیز دیتا ہے۔تو اپنے نام پر کیوں نہیں دیتا۔خدا کی خاطر اس کا بہانہ رکھ کر گند پھینکتا ہے کہیں اور کہتا ہے کہ میں نے خدا کو راضی کرنے کے لئے یہ فعل کیا ہے۔تو یہ چیز ناراضگی کا موجب بنتی ہے، خدا سے پیار کرنے کا موجب نہیں بنتی۔اور چندے کے تعلق میں اس مضمون کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارا نظام ایک پاک روحانی نظام ہے۔یہاں وہی چندہ باعث برکت ہوگا جو اس مضمون کو سمجھ کر پھر ادا کیا گیا ہو۔چنانچہ یہ دونوں جماعتیں ایسی ہیں بنگلہ دیش اور یوگنڈا جن میں چندوں میں کمزوری پائی جاتی ہے۔بنگلہ دیش میں خدا کے فضل سے بعض جو فدائی مخلصین ہیں وہ بہت بڑے بڑے بوجھ اُٹھاتے ہیں۔بڑی بڑی