خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد 14 407 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء كَسَبْتُمْ کے اندر جو کثیف پہلو تھا اس سے اگلے مضمون کو الگ کر دیا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ مِمَّا بلکہ فرمایا وَ مِمَّا اَخْرَجْنَا جو کچھ ہم زمین میں سے تمہارے لئے نکالتے ہیں اس میں سے خرچ کیا کرو۔خدا تمہارے لئے زمین سے پاک چیزیں ہی اُگاتا ہے اور پاک چیز ہی تمہارے لیے پیدا فرماتا ہے وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ یا یوں پڑھیں گے وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ اور خبیث ، ناکارہ، گندی چیزیں خدا کی راہ میں پیش کرنے کی نیت ہی نہ باندھو ، ارادہ بھی نہ کرو، سو چو بھی نہ اس کا۔یہاں ولا تنفقوا نہیں فرمایا وَ لَا تَيَمَّمُوا۔تیمموا کا مطلب ہوتا ہے نیت باندھنا ارادہ باندھنا، ایک فیصلہ کرنا کسی خاص غرض سے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری نیت ہی میں داخل نہ ہو یہ بات اشارۃ بھی تمہارے دماغ میں یہ بات نہیں آنی چاہئے کہ اللہ کی راہ میں ناپاک چیزیں پیش کرو۔خصوصیت سے فرمایا وَ لَسْتُمْ بِاخِذِيهِ جبکہ تمہارا اپنا یہ حال ہے کہ گند بھی کماتے ہو، گند کھاتے بھی ہو سب کچھ کر لیتے ہو مگر بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اگر وہ تمہیں دی جائیں تو سوائے اس کے کہ تمہاری نظریں شرم سے جھک گئی ہوں اور تم آنکھ اُٹھا کر دیکھ نہ سکو ان چیزوں کو قبول نہیں کرتے اور اگر چاہتے ہو قبول کرنا تو چھپ کر قبول کرنا چاہتے ہو۔نظر جھکانے کا مضمون چھپنے کے مضمون سے بڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔جب انسان خطرات سے آنکھیں بند کر لیتا ہے تو دیکھنا نہیں چاہتا اس چیز کو، نہ کسی کو دکھانا چاہتا ہے۔تو جس سے تم خود چھپتے ہو، اپنی نظروں میں شرما جاتے ہو، کہاں پسند کرو گے کہ لوگوں کے سامنے وہ چیزیں تمہیں دی جائیں جن کو قبول کرنا ہی تمہاری عزت نفس کے لئے دو بھر ہے اور بہت مشکل کام ہے۔وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ اور خوب اچھی طرح جان لو کہ اللہ غنی ہے۔غنی کے دو معنے ہیں۔اللہ کو اموال کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ اموال و دولت کا ہر چیز کا مالک وہ ہے اس لئے امارت کا اگر کوئی تصور ہے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی باندھا جا سکتا ہے۔اس کے مقابل پر یہ تصور کسی انسان پر اطلاق پائے گا تو بہت ناقص حالت میں پائے گا۔اصل غنی تو اللہ ہے جو پیدا کرتا ہے، پیدا کر سکتا ہے، ہر چیز اسی کی ہے۔پھر ساتھ فرمایا غنی ان معنوں میں کہ جس کا سب کچھ ہو وہ بے پروا بھی ہوتا ہے۔اس کو اگر کچھ پیش کیا جائے۔اگر بہترین بھی پیش کیا جائے تو تب بھی اس کو ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود مالک ہے۔اس لئے اگر قبول کرتا ہے تو تمہاری خاطر کرتا ہے۔تو اس کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ تم سے گندی چیزیں بھی قبول کرے جبکہ اچھی