خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد 14 394 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء ہے۔اس کا حضرت ابراہیم ، ابراہیمی سلام سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں رہتا۔پس بعض دفعہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے معاملات میں میں سختی کرتا ہوں حالانکہ میری طبیعت میں سختی نہیں ہے مگر میری مجبوریاں ہیں میں اس بات پر مامور کیا گیا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ کے تابع نظام جماعت رکھوں ورنہ یہ نظام تمام برکتوں سے محروم رہ جائے گا۔اس لئے اس کے معاملے میں میرے دل میں کوئی رعایت نہیں ہے۔کوئی خوف نہیں ہے۔بار ہا ایسا ہوا کہ بعض بظاہر دنیا کے لحاظ سے بڑے آدمیوں نے غلطی کی ، ان کی اولادوں نے ایسی غلطی کی جن کے نتیجے میں ان کو سزاملنی چاہئے تھی اور سفارشیں بھی آئیں کہ یہ تو بڑے خاندان کے سر براہ لوگ ہیں، بہت امیر لوگ ہیں ، بہت بااثر لوگ ہیں۔ان سے صرف نظر کیا جائے تو بہتر ہے نظام جماعت کے لئے بہتر ہے۔ان کو میں نے لکھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس اہل نہیں ہو کہ تم جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ادا کرو۔جس وقت تم اس شرک میں مبتلا ہوئے کہ کچھ چوہدری اتنے بڑے ہیں، کچھ ٹھیکیدار اتنے بڑے ہیں، کچھ سیاست دان ایسے بڑے بڑے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ نرمی نہ کی گئی تو سارے علاقے میں احمدیت کو نقصان پہنچے گا اسی وقت اور نظام جماعت جہاں تک تعلق ہے اس کو خدا پر چھوڑ۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیسے، کہاں کہاں سے نظام جماعت پر فضل فرمائے ہیں۔اس کی خاطر اس کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتے ہوئے اگر آپ نظام کی حرمت اور اس کے وقار کی حفاظت پر مستعد رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود آپ کی بھی حفاظت فرمائے گا اور نظام جماعت کو ہر خطرے سے بچائے گا اور ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔پس آج تک کبھی میں نے نظام جماعت کو کسی کا محتاج نہ سمجھا نہ کسی کو اجازت دی کہ وہ اس طرح سمجھ کر محتاج ہونے دے اور ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں کی کہ نظام جماعت میں عمل داری میں کوئی شخص شا کی ہو کر ناراض ہو کر منہ موڑتا ہے، مدد سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے یا اپنی اولا دکو بر باد کرتا ہے۔کرتا ہے تو وہ ذمہ دار ہے لیکن خدا کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آسکتی اور جہاں بھی ایسا واقعہ ہوا ہے وہاں ساری جماعت کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ذلیل و رسوا کر دیا ، ان کے سارے تکبر تو ڑ دیئے اور جماعت پہلے سے بہت بڑھ کر ترقی کر چکی ہے اور کرتی چلی جارہی ہے۔پس نظام جماعت کا جہاں تک تعلق ہے اس کا احترام ہالینڈ میں بھی اسی طرح لازم ہے