خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد 14 388 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء داخل ہوتا ہے۔سلام سے مراد خدا ہے اور جب میں کہتا ہوں سلام کے اندر داخل ہوتا ہے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ قرآنی محاور ہے۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا (العنکبوت: 70) جو ہمارے اندر جد و جہد کرتے ہیں۔تو مراد یہ نہیں کہ اللہ کی کوئی ایسی جگہ ہے جس میں انسان داخل ہو رہا ہے۔مراد یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں ڈوب رہا ہے اور صفات باری تعالیٰ میں اپنے آپ کو غرق کرتے چلے جانا اور دنیا سے بظاہر غائب اور صفات میں گہرا اندرونی سفر اختیار کرنا یہی دراصل جَاهَدُوا فِينَا کا معنی ہے کہ جو لوگ ہمارے اندر جد و جہد کرتے ہیں ہم خود ان کو پکڑ کر ان کی ہدایت کے سامان کرتے ہیں۔تو سلام کے پہلو سے یادرکھنا چاہئے کہ سلام میں بھی جب تک خدا یعنی سلام کی ذات میں مومن اپنے آپ کو غائب نہیں کرتا اس وقت تک جس پہلو سے اس نے اپنے آپ کو الگ رکھا ہوا ہے وہ پہلو اس کا خطرے میں ہے۔اب اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے۔میں نے بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے میں چونکہ انہوں نے امین خدا کے تعلق سے اپنے آپ کو امانت دار بنایا تو اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کے سپر دخترا نے کئے ان کے سپر دوہ بھائی کر دیئے جو ان کو بد دیانت سمجھتے تھے اور ہر ایک دنیا والے کی گردن ان کے سامنے جھکا دی۔بالکل یہی مضمون حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعلق میں بھی دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسلم۔ابراہیم نے کہا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ میں تو پہلے ہی فرمانبردار ہوں۔جب آگ میں جھونکنے کا وقت آیا تو اس وقت خدا تعالیٰ نے جو آگ سے مخاطب ہو کے فرمایا ہے یہ حضرت ابراہیم کے سلام میں داخل ہونے کی سب سے بڑی گواہی ہے۔يُنَارُ كُونِى بَرُدَّاوَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرُ هِیمَ (الانبیاء: 70 ) کہ اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا اور سلام بن جا کیونکہ یہ میرا بندہ ہے ، سلام کا بندہ ہے اور سلام کے بندے کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔پس وہ لفظ سلام بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے حق میں ، ان کے اسلام کے حق میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم دائمی گواہی دے دی کہ واقعی وہ بندہ اس دعوے میں سچا تھا۔اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔سلام کے تعلق میں جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے ہم سلام ہی کو نظام جماعت میں کارفرما دیکھتے ہیں اور اس پہلو سے سلام کا ایک گہرا تعلق منی سے ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات میں سے