خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد 14 354 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء اس پر اندھیرے مسلط ہو جاتے ہیں۔پھر خدا اس سے ایسا غائب ہو جاتا ہے کہ خدا سے تعلق کے اس کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ خدا پھر بھی اسے دیکھ رہا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ پہلے یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ احساس تمہیں ہونا چاہئے کہ وہ تمہارے لئے غیب تو ہے لیکن موجود بھی ہے اور تمہیں دیکھ رہا ہے۔یہ احساس ہے جو گناہ سے نجات بخش سکتا ہے۔اس احساس کے بغیر گناہ سے نجات کا تصور محض ایک بچگا نہ کہانی ہے۔یعنی مسیح ہماری خاطر قربان ہو گئے اور گناہ بخشے گئے ، نہایت ہی جاہلانہ کہانی ہے۔قرآن کا مضمون جو حقیقت میں ایک عارفانہ مضمون ہے جس کا انسانی فطرت سے اور خدا کی صفات سے گہرا تعلق ہے۔پس اس پہلو سے یا درکھیں کہ گناہ سے بچنے کا جو اصول قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے وہ ہے يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ ( الانبیا: 50) باوجود اس کے کہ اللہ نے ان کی سہولت کی خاطر اپنے جلوؤں کو مدہم کر دیا ہے اور وہ ایک قسم کے سائے میں بھی زندگی بسر کرتے ہیں لیکن یہ سائے ان کے اندھیروں میں نہیں بدلے کیونکہ سائے اگر اندھیروں میں بدل جائیں تو پھر ٹھو کر ہی ٹھو کر ہے۔قدم قدم پر لغزش ہے پھر ہلاکت کے گڑھے میں بھی انسان گر سکتا ہے لیکن سائے اگر سائے رہیں وہ طمانیت تو عطا کرتے ہیں ، آنکھوں کا نور نہیں لے جاتے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ سائے میں رہتے ہیں غیب کے لیکن يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ وہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہا مگر ہے کہیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ غیب ہوتے ہوئے دیکھنا یہ اس لئے بھی بڑا ضروری ہے کہ کسی چیز کا اندرونہ ظاہر ہو جائے۔آپ لوگوں میں بعض نے شاید وہ نیچر کی فلمیں دیکھی ہوں۔نیچر کی فلموں میں جو ماہرین ہیں سب سے اچھی فلم بنانے والے وہ ہیں جو اس طرح فلم بناتے ہیں کہ جانور کو یہ نہ پتا ہو کہ ہمیں کوئی دیکھ رہا ہے۔جب جانور کو یہ یقین ہو جائے کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا پھر اندر سے اس کی ساری صفات کھل کے باہر نکل آتی ہیں اور جب تک صفات باہر نہ نکل آئیں اس کے خلاف شہادہ نہیں ہوسکتی۔پس باوجود اس کے کہ اللہ غیب کا علم رکھنے والا ہے، بندے کے اندرونے کے خلاف اس کے اندرونے کی شہادت نہیں دے گا اس لئے فرمایا تمہارے جلد میں بولیں گی یعنی تمہارے گناہوں کو کھل کر باہر آنے کا موقع ملے گا اور وہ تمہارے دکھائی دینے والے اعضاء میں ظاہر ہو جائیں گے۔یہ