خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد 14 353 خطبہ جمعہ 19 رمئی 1995ء من شاء کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔پھر ایک تقدیر مبرم ہے جو ہمیشہ جاری وساری رہے مجال نہیں انسان کی کہ اپنی چاہت سے کچھ کر سکے۔پس وہ وجود، وہ کامل وجود یعنی حضرت محمد مصطفی مہ جب خدا کے سامنے شہادہ میں آگئے تو پھر ہمیشہ رہے۔یہ آپ کی جنت تھی اس لئے کہ آپ خدا کی صفات سے ہم آہنگ ہو چکے تھے۔اب اگر کسی کی صفات سے انسان ہم آہنگ ہو جائے تو اس کی غیو بیت لعنت بن جاتی ہے اور اس کا حاضر ہونا نعمت ہو جاتا ہے۔اس پہلو سے آپ دیکھیں کہ ضروری نہیں کہ وہ عشق ہو جس کو شعراء عشق کہتے ہیں ہم مزاج لوگوں سے ایک طبعی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور ایک ایسا عشق ہے جس کی معین تعریف کرنا مشکل کام ہے۔لیکن یہ جذ بہ بڑھ کر ایک غیر معمولی شدت کے جذب کے جذبے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔جذب یعنی کھینچنے کی طاقت رکھتا ہے اور ایسے آدمی کے ساتھ آپ رہیں جس کے ساتھ ہم آہنگی ہو تو طبیعت کو سکون ملتا ہے اور ہم آہنگی نہ ہو تو طبیعت میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بعض دفعہ لوگ کہہ دیتے ہیں جی ہمیں تو اس سے الرجی ہو گئی ہے۔وہ سامنے آئے تو گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے اور اس میں خونی رشتے کا کوئی تعلق نہیں۔اس لئے نہ خونی رشتے کی محبت کا اس سے تعلق ہے نہ شاعرانہ عشق سے اس کا تعلق ہے۔یہ ایک گہر ا فطرت کا معاملہ ہے اور اس فطری تعلق میں خدا تعالیٰ کے غیب اور حاضر ہونے کے مضمون کو آپ سمجھیں تو پتا چلے گا کہ بھاری اکثریت انسان کی ایسی ہے کہ اگر ان کے لئے خدا ہمیشہ شاہد رہتا تو ان کا اختیار بھی ہاتھ سے نکل جاتا کیونکہ ان کے اختیارات میں بھاری امکانات اس بات کے تھے کہ وہ ذرا اپنی خواہش کے نرمی کے اختیار کو استعمال کریں۔پھر وہ بے اختیار ہو گئے۔جب ہر وقت ایک کامل وجود ایک بارعب وجو دسر پہ کھڑا ہو، اختیار کہاں رہا۔تو یہ اندھیرے ہیں غیب کے جن میں ہم ڈوبتے ہیں اور خدا غا ئب ہو جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں غائب ہو گیا اور ہے موجود۔کیونکہ خدا ہر غیب کا واقف ہے اس لئے ایسا ہی ہے جیسے بلی کے ڈر سے کبوتر آنکھیں بند کر لے۔وہ غائب ہو جاتا ہے لیکن بلی کی نظر میں رہتا ہے۔انسان جب گناہوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ غیو بیت تاریکی اختیار کر جاتی ہے۔شروع میں یہ غیب ہے یعنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں آنکھیں کھولے تو دیکھ بھی سکتا ہے، روشنی نہیں ہٹتی لیکن جب انحراف کرتے ہوئے، پیچھے ہٹتے ہوئے وہ اندھیری کھو ہوں میں ڈوب جاتا ہے، ایسے کونوں میں غائب ہو جاتا ہے جہاں روشنی پہنچتی نہیں پھر