خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 349

خطبات طاہر جلد 14 349 خطبہ جمعہ 19 رمئی 1995ء فرمائے یعنی اپنے غیب کو شہادہ میں نکال کر اس سے تعلق باندھے وہ سب سے بڑا شہید کہلانے کا مستحق ہے۔پس یہ فرق ہمیں اس بات سے بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تمام گزشتہ انبیاء پر شہید فرمایا گیا۔اس لئے یہ جو مضمون ہے یہ بہت گہرا اور اندر اندر بڑے گہرے اور لمبے وسیع رابطے رکھنے والا مضمون ہے۔آدم سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفی میل تک خدا کا غیب سے شاہد میں نکلتے چلے آنا جاری رہا اور وہ مضامین بیان فرما دیئے گئے ، آپ پر کھول دیئے گئے کس طرح خدا ظا ہر ہوگا، ہوتا ہے لیکن یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔اگر یہ سلسلہ بند ہو تو ویسی ہی بات بن جائے گی جیسے ختم نبوت کا غلط معنی سمجھا جاتا ہے اللہ بھی ختم اور نبوت بھی ختم۔جو مضامین روشن ہو جائیں ان کے معانی جاری رہتے ہیں۔جو ایک سمت میں حرکت ہے وہ نہیں رکتی۔اس تعلق میں یہ بات خاص طور پر دھیان میں لانے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے قرآن کریم میں جو اپنی صفات بیان فرمائیں ان میں ایک یہ بھی تھا کہ ہم وقت کے اوپر خزانے اتارتے ہیں جب ضرورت پیش آتی ہے۔یہ تعارف تو مکمل ہوالیکن یہ کہنا کہ خدا مضمون ہے نے وہ خزانے ہمیشہ کے لئے اتار دیئے اور مزید خزا نے باقی نہیں رہے یہ غلط ہے اور یہ وہ جس کا وقت کے ساتھ تعلق ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔خدا تعالی وقت کا خالق ہے، وقت کا پابند نہیں ہے۔وقت خدا کو اپنا محکوم نہیں بنا سکتا کیونکہ خدا خالق ہے اور وہ مخلوق ہے۔اس لئے جہاں تک زمانے کے جاری رہنے کا تعلق ہے یہ خدا تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری ہے نہ کہ ان صفات میں تبدیلی کا مظہر۔اس کی جلوہ گری کے نتیجے میں زمانہ تبدیل ہوتا ہے اور زمانے میں تبدیلی ہمیں وقت کا احساس دلاتی ہے اور زمانے کی تبدیلی کے حوالے سے ہم کہتے ہیں خدا اب یوں جلوہ گر ہوا اور پہلے یوں جلوہ گر ہوا تھا اور آئندہ یوں جلوہ گر ہو گا مگر عالم موجودات میں سب کچھ خدا کی نظر میں موجود ہے اور اس کی ذات پر زمانے کی تبدیلی نہیں ہو رہی۔پس حوالہ جب آدم کا دیا جاتا ہے یا حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا دیا جاتا ہے یا آئندہ زمانوں کا، تو دراصل خدا وقت کا پابند نہیں بلکہ ایک عالم بسیط میں وہ پھیلا ہوا عالم ہے جو وقت سے بالا ہے اس میں اپنی جلوہ گری دکھاتا ہے اور جب دیکھنے والے ایک زاویے سے دیکھتے ہیں تو دوسرے زاویے سے دیکھنے والوں سے اپنے آپ کو بہتر حالت میں پاتے ہیں مگر چیز نہیں بدلتی۔منظر وہی ہے ،