خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 348

خطبات طاہر جلد 14 348 خطبہ جمعہ 19 رمئی 1995ء خصوصیت سے کر رہا ہوں کہ آواز پر اثر تو ہے مگر طبیعت پر کوئی بداثر نہیں ہے ، نہ جسم میں کوئی دُکھن ہے، نہ بخار ہے، نہ کمزوری ہے اور گلا بھی اور چھاتی بھی سکون میں ہیں اس لئے بعض دوست جو خطبہ سن کے سوچ رہے ہوں گے کہ فوری طور پر فیکس دیں ، طبیعت پوچھیں ان کو اس تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ کے فضل سے میں مطمئن ہوں اور اگر انہوں نے فیکسز دیں تو پھر تکلیف ہوگی اس لئے یہ تکلیف نہ فرمائیں۔اب جہاں تک اس مضمون کا تعلق ہے یہ بھی آپ کے لئے غیب کی بات تھی جسے حاضر کرنا تھا۔اب میں خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے سے متعلق بعض اور امور آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔میں نے گزشتہ خطبے میں بیان کیا تھا کہ جو کچھ پردہ غیب میں ہے وہ بہت زیادہ ہے، جو حاضر میں ہمیں دکھائی دیتا ہے اس کی اس سے کوئی نسبت نہیں اور پردہ غیب میں صفات باری تعالیٰ بھی ہیں اور صفات باری تعالی رفتہ رفتہ منظر عام پر ابھرتی ہیں لیکن حسب ضرورت۔دو طرح سے ان میں ایک ارتقائی سفر دکھائی دیتا ہے۔ایک وہ صفات جو آدم کے لئے ضروری تھیں آدم کے سامنے بیان کی گئیں جن کو موسی کے وقت کی حاجت تھی وہ اس کے سامنے کھولی گئیں اور وہ صفات جن کا بنی نوع انسان سے اجتماعی طور پر تعلق تھا اور انسان کی ضرورت کی آخری حدوں تک تعلق رکھتی تھیں وہ تمام صفات حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر ظاہر فرما دی گئیں اور یوں گویا وہ خدا جو غیب میں تھا منظر عام پر ابھر آیا اور شاہد میں آ گیا لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔یہ کہنا غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی کچھ اور صفات نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارے زاویہ نگاہ سے ہم پر ظاہر ہوتا ہے۔اگر آدم یہ سمجھتا کہ خدا کی یہی صفات ہیں تو فرشتے اس سے پہلے بھی یہی حق رکھتے تھے کہ اپنے تعلق میں خدا کی صفات کو جو سمجھ بیٹھے تھے انہی پر اکتفا کر جاتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے جو فرشتوں سے جو سلوک فرمایا ارتقاء نبوت کے ساتھ آدم کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا اور جو صفات اس پر ظاہر کی گئیں ان سے بہت زیادہ بعد کے انبیاء کوملنی شروع ہوئیں یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ پر یہ سلسلہ اپنے نقطہ عروج کو پہنچا۔لیکن اس کے باوجود یہ صفات پھر نظر سے غائب ہیں یعنی ابھری ہیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ پر اور آپ کی ذات کے ساتھ ان کا ایک نہ ٹوٹنے والا دائمی رشتہ بن گیا اور ہمیشہ غیب کا خدا آپ کے لئے حاضر کا خدا بنارہا اور ہمیشہ غیب کا خدا آپ کے لئے شاہد اور شہید بنا رہا پس جس پر خدا سب سے زیادہ جلوہ شہادت ظاہر الله