خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 345

خطبات طاہر جلد 14 345 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء پس خدا تعالیٰ ایک شخص کے لئے ایک چیز سے ایک وجود کے طور پر اس سے تعلق جوڑتا ہے مگر اتنا ہی جوڑتا ہے جتنا وہ چاہتا ہے اور جس صفت میں آپ اپنا تعلق بڑھا ئیں گے اس صفت کے اعتبار سے خدا آپ پر مزید روشن ہوتا چلا جائے گا اور بلند تر اور بڑا ہوتا چلا جائے گا عظیم تر ہوتا چلا جائے گا۔پھر ایک اور صفت پر آپ غور کریں تو اسی پہلو سے خدا تعالیٰ نئے جلووں کے ساتھ آپ کو پھیلتا ہوا اور عظمتیں اختیار کرتا ہوا دکھائی دے گا۔اتناہی ہے جو ہے وہ، جس کی کنہ کو ہم نہیں جانتے مگر ہر انسان کے لئے اتنا ہو جاتا ہے جتنا اس میں طاقت ہے جتنا اس میں استطاعت ہے۔تو ہر انسان کا ظاہری عالم بھی الگ ہے اور الہی عالم بھی الگ الگ بنتا ہے۔ایک خدا ہوتے ہوئے بھی درحقیقت وہ ہر انسان کے ایک الگ خدا کے طور پر اس میں ظاہر ہو رہا ہے لیکن ہے ایک ہی۔تو یہ کوئی فلسفی کی باتیں نہیں ہیں یہ وہ حقائق ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان فرمایا اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے مختلف نصیحتوں اور مثالوں میں ہم پر روشن فرمایا ہے۔علِمُ الْغَيْبِ پر ایمان لانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے انسان کو اپنے مستقبل پر ، اپنی کوششوں پر یقین پیدا ہوتا ہے۔اگر انسان کو پتا ہو کہ جو کچھ میرے سامنے ہے بس وہی کچھ ہے تو مزید جستجو کے لئے توجہ ہی پیدا نہیں ہوسکتی۔یہ لوگ جن کو آپ بظاہر بے ایمان سمجھتے ہیں ان کو اگر فائدہ پہنچا ہے تو لاشعوری طور پر یہ علِمُ الْغَيْبِ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ یقین ہو چکا ہے کہ غیب میں بہت کچھ ہے اور اتنے سے خدا کو جان کر جو علِمُ الْغَيْبِ ہے اس کے ایک حصے سے متعارف ہو کر انہوں نے اتنے خزانے پالئے ہیں کہ وہ لا متناہی نظر آتے ہیں ، ساری دنیا پر حکومت کر گئے ہیں، تمام دنیا کی دولتیں سمیٹ چکے ہیں۔اور اس مضمون کو قرآن کریم انہی معنوں میں بیان فرما رہا ہے کہ غیب کا علم دراصل خزائن کا علم ہے تو اس غیب کے علم کو کوئی معمولی بات نہ سمجھو۔اب آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا قل لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ (الاعراف: 189 ) تو ان سے کہہ دے کہ ذاتی طور پر تو میں اپنے لئے نہ کوئی ذرہ بھر بھی فائدے کا سامان رکھتا ہوں نہ نقصان کی طاقت رکھتا ہوں مگر وہی جتنا خدا مجھے عطا فرماتا ہے اور اگر تم غیب کی بات کرتے ہو تو وَ لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ اگر میں غیب کا علم رکھتا تو بے شمار دولت اکٹھی کرسکتا تھا۔اب غیب کا دولت اور خزانے سے کیا تعلق ہے۔یہ ایک مضمون ہے جس کے متعلق اب تو وقت