خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 331
خطبات طاہر جلد 14 331 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء لیں۔ہم شش جہات کی بات کرتے ہیں دراصل وہ تین جہات ہیں اوپر کو ایک جہت کہتے ہیں نیچے کو ایک جہت۔تین جہات ہیں اور چوتھی جہت وقت کی ہے تو چار جہات کے اندر ہم محدود ہیں۔چار جہات سے باہر کا تصور حساب دان کرتے ہیں۔حسابی رو سے اگر Two Dimensional World ہوتو کیا ہوگا Five Dimensional ہو تو کیا ہوگا اور یہاں تک تو بہر حال ان کا غور اور تد برا نہیں پہنچا چکا ہے یا اس کا تصور باندھ سکتے ہیں کہ اس کائنات میں اسی وقت اور اسی Space، اسی مکانیت میں ایسے بھی جہان ہو سکتے ہیں جن کی Dimensions مختلف ہوں اور ان کا ہم سے کوئی دور کا بھی تعلق نہ ہو ایک ہی جگہ رہتے ہوئے۔اب اسی پر غور کریں تو آپ کو حضرت اقدس محمد مصطفی میے کی حقانیت پر کامل یقین پیدا ہوتا ہے، اونی بھی آپ کی حقانیت پر شبہ باقی نہیں رہتا۔اس زمانے میں جبکہ وقت کا مکان کا تصور بالکل اور تھا، اس زمانے میں آپ پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ جنت ایسی چیز ہے عَرْضُهَا السَّمُوتُ وَالْاَرْضُ ( آل عمران : 134 ) کہ اس کا دائرہ زمین و آسمان پر پھیلا پڑا ہے۔کوئی چیز بھی جسے آپ کا ئنات کہتے ہیں وہ جنت کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔اب یہ سوال کہ جنت کا دائرہ زمین و آسمان پر محیط ہے صحابہ سمجھ نہیں سکے اور ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر جہنم کہاں ہوگی؟ آپ نے فرمایا وہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔تو جس خدا نے آنحضرت ﷺ کو یہ Dimensions کا شعور اس وقت عطا کیا تھا جبکہ تمام عالم کی عقل گل ہی اس شعور کے قدموں تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی حیرت انگیز بات ہے۔عرب کا ایک ان پڑھ انسان جس کی ساری قوم امی کہلا رہی تھی اس میں سے ایک شخص اٹھتا ہے اور اس پر ایسا کلام نازل ہوتا ہے جوا سے غیب کی خبریں دیتا ہے اور غیب کی خبروں کی حکمتوں سے آگاہ فرماتا ہے اور کئی قسم کے غیب اس خبر میں موجود ہیں ، یہ ایسی خبر دی گئی ہے جس سے آپ کے زمانے کے تمام انسان غیب میں تھے یا یہ خبر ان سے پردہ غیب میں تھی اور آپ کو عطا کی گئی اور جس چیز کی خبر عطا کی گئی وہ غیب در غیب کی خبر ہے کہ تم جس دنیا کو سمجھتے ہو ، ہم جانتے ہیں اس میں سے اکثر کو تو جانتے ہی نہیں لیکن اس کا جو عمومی تصور باندھتے ہو اس سے بھی پرے اور چیزیں ہیں۔تو ” علام الغیوب کا جو لفظ ہے اس نے بتایا کہ غیبوں کے بھی جہان ہیں۔ایک کے بعد