خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد 14 320 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء کر ہی عالم شہادہ نصیب ہوگا۔پہلے عالم الغیب رکھ دیا ہے۔اس کڑی منزل سے گز رو گے تو پھر جو شہادۃ روشن ہوگی وہ حقیقی اور بغیر شک کے ہے۔تو پھر شہادۃ کا مضمون حاصل کر لو گے۔پس اس معنی میں آنحضرت ﷺ کو تمام انبیاء پر قیامت کے دن شہید کے طور پر پیش کیا جائے گا۔اب یہ دیکھیں قرآن کے مضامین کتنے مربوط ہیں اور اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے کیوں آخر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو اپنی اپنی قوموں کا شاہد اور شہید بنایا اور ان سب پر صلى الله حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو شہید بنا دیا ؟ اس لئے کہ عَلِمُ الْغَيْبِ سے جیسا تعلق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا تھا و یا کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔اس لئے شہادۃ کا علم بھی آپ کو سب سے زیادہ تھا۔جود یکھتے تھے جیسا سمجھتے تھے وہی نکلتا تھا اس لئے کہ آپ کے ضمیر میں تقویٰ کی روشنی بڑی تھی اور تقویٰ کے نتیجے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے علِمُ الْغَيْبِ سے تعلق ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر ایک اور بات بھی مزید روشنی پیدا کرتی ہے وہ عالم الغیب کی طرف سے شہادۃ کے امور میں الہامی تعلیم ہے۔یعنی جو انسان اپنے نور سے براہ راست نہیں دیکھ سکتا اس کو پھر الہام روشن کرتا ہے اور یہ جو مضمون ہے الہام کا یہ حقیقت میں ہے ہی غیب سے شہادۃ میں۔حالات و واقعات میں چیزوں کو تبدیل کرنے کا مضمون۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًان إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن : ۲۸،۲۷) کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے غیب کے علم پر غلبہ نہیں دیتا۔اب یہ دیکھیں کہ بہت ہی لطیف مضمون اور کیسے احتیاط سے لفظوں کا انتخاب ہوا ہے۔فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِة اَحَدًا جس کا مطلب ہے غیب کا کچھ نہ کچھ علم غیر رسول بھی حاصل کرتے ہیں اور کچھ نہ کچھ روشنی ہر انسان کو عطا ہوئی ہے کہ وہ غیب کے پردے پھاڑ کر کچھ اندازے لگاتا ہے۔ایک سیاسی مبصر جب آئندہ کے حالات کے متعلق تبصرہ کرتا ہے تو یہ وہی مضمون ہے مگر اسے اظہار علی الغیب نہیں کہہ سکتے۔وہ کہتا ہے جو سیاسی حالات ظاہر ہو رہے ہیں ، جو امکانات ہیں، ان کے نتیجے میں جو احتمالات ہیں، ان پر غور کر کے میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ دس سال میں یہ تبدیلی واقع ہوگی۔اب اگر وہ ذہین ہے اور تجربہ کار ہے تو کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ درست ثابت ہوتا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کا مستقبل کے متعلق اندازہ ہمیشہ درست ثابت ہو پس اگر کچھ درست ثابت ہو اور کچھ نہ ہو تو یہ ریب کا مضمون