خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 319

خطبات طاہر جلد 14 319 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء قرآن کریم کا مطالعہ بھی اگر آپ کریں گے، تقویٰ نہیں ہوگا تو چونکہ آپ کا نور پھیکا ہے اس لئے قرآن کریم کے حقائق میں سے کچھ حقائق آپ کو ملے جلے ،مشتبہ، دھندلے سے دکھائی دیں گے اور ریب کا مضمون باقی رہے گا۔جیسے رات کے وقت کا جو سفر ہے اس میں سڑک اور اس کے گردو پیش آگے پیچھے کے جو حقائق ہیں وہ تو موجود ہیں، ان کو روشنی تبدیل تو نہیں کر سکتی لیکن غیب میں ہیں۔ان کو سمجھنے کے لئے روشنی کی ضرورت ہے اور روشنی اگر زیادہ ہوگی تو ریب سے باہر نکل آئیں گے اگر روشنی کم ہوگی تو دکھائی دینے کے باوجود ریب میں لیٹے رہیں گے۔یعنی کچھ نہ کچھ شک کا اس پہ سایہ باقی رہتا ہے۔میں نے ایک دفعہ شاید پہلے بھی آپ کو یہ قصہ سنایا تھا، واقعہ ہے اور کچھ لطیفے کا رنگ بھی رکھتا ہے کہ ایک دفعہ قادیان میں پارٹیشن سے پہلے کا ذکر ہے کہ ہمارے کزن سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور مسعود مبارک شاہ صاحب مرحوم ، ان کے ایک دوست جو رات کو شہر سے دار الانوار کے لئے روانہ ہوئے کیونکہ یہ دارالانوار میں رہا کرتے تھے۔پہلے بہت بارش ہوئی تھی ، اتنی کہ جو جو ہر تھے ان کے کناروں تک پانی بھر گیا تھا ، سڑک کے قریب برابر ہو گئے تھے اور چاندنی پوری طرح کھلی ہوئی نہیں تھی۔کہیں کہیں بادل کا ٹکڑا بھی آجاتا تھا۔تو اب انہوں نے سوچا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم سڑک سمجھ کر جو ہر پہ پاؤں رکھ دیں کیونکہ کنارے تو برابر ہوئے ہوئے ہیں تو ان میں سے ایک آدمی جو ان کا دوست تھا وہ بہت چالاک مشہور تھا ، بہت ہوشیار ، تو اس نے کہا یہ تو کوئی مشکل بات نہیں ہے میں آپ کو ترکیب بتا دیتا ہوں۔چلتے چلتے یہ باتیں ہو رہی تھیں اور ترکیب اس نے یہ بتائی کہ دھند لکے میں عموماً یہ ہوا کرتا ہے کہ جس کو آپ سٹرک سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ پانی ہوتا ہے اور جس کو آپ پانی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ سٹرک ہوتی ہے جیسے یہ پانی لگ رہا ہے اور یہ کہہ کر وہاں قدم رکھا تو باقی کی آواز ان کی بلبلوں میں نکلی ، پورا نیچے ڈوب گئے۔تو یہ عالم غیب ہے جو روشنی کی کمی سے پیدا ہوتا ہے۔دیکھنے میں نظر آ رہا ہے۔اب یہ لوگ جو تقویٰ سے عاری ہیں قرآن یہ بھی پڑھتے ہیں مگر ان کی آنکھوں کے سامنے ایک دھند قائم رہتی ہے جس کو وہ پانی سمجھ کر قدم ڈالتے ہیں وہ سڑک نکلتا ہے جس کو سڑک سمجھ کر قدم رکھتے ہیں وہ بعض دفعہ پانی نکلتا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کے مضمون کو آغاز ہی میں تقویٰ سے باندھ دیا ہے اور فرمایا کہ اگر تم علمُ الْغَيْبِ سے حصہ پانا چاہتے ہو کیونکہ علِمُ الْغَيْبِ کے رستے سے گزر