خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد 14 310 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء کی 170 مجالس کے 560 طلباء شامل ہیں۔جماعت احمد یہ جاپان کا جلسہ سالانہ آج شروع ہو رہا ہے اور 3 دن جاری رہ کر 7 مئی کو اختتام پذیر ہوگا۔جماعت احمدیہ ڈنمارک کا جلسہ سالانہ کل 6 مئی سے شروع ہو کر دو دن جاری رہے گا اور 7 مئی بروز اتوار اختتام پذیر ہوگا۔اللہ تعالیٰ یہ تمام اجتماعات مبارک فرمائے۔اللہ کی خاطر ، اسی کے نام کے لئے اکٹھے ہونے والوں کو ہر لحاظ سے برکت دے اور ان کی نیتوں کو پاک رکھے اور ان تمام اجتماعات کے نیک باقی رہنے والے اثر اور نتائج ظاہر فرمائے۔آمین یہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وہ غیب کا علم رکھتا ہے اور شہادت کا علم رکھتا ہے۔هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی۔بعض دفعہ عجیب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصرفات ہوتے ہیں ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صفات باری تعالیٰ سے متعلق جو مختلف آپ کے ارشادات ہیں ان کے پیش نظر میرا آج ارادہ تھا کہ جن صفات پر خصوصیت سے روشنی ڈالی جائے ان میں ایک یہ بھی ہو۔ابھی چند دن پہلے مجھے ربوہ سے خط ملا کہ آپ کا ایک بہت پرانا خط میں نے دیکھا ہے اس میں آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کبھی وقت ملا توعَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کے مضمون پر روشنی ڈالوں گا کیونکہ اس کا انسانی زندگی سے روز مرہ کے معاملات میں بڑا گہرا تعلق ہے۔تو چونکہ پہلے ہی ذہن میں یہ بات تھی تو اس خط سے یہ دل میں خیال پیدا ہوا کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک تقدیر کے ذریعے جاری ہوا ہے اور وقت کی ایک ضرورت پوری ہو رہی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تائید فرماتا ہے ایک دوسرے کے ذریعے تا کہ دل میں یقین بھر جائے کہ یونہی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ خدا کی تقدیر کا ایک باب کھل رہا ہے۔علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کے متعلق جو کچھ باتیں میں پہلے کہہ چکا ہوں، کچھ آج بیان کروں گا لیکن سب سے پہلے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عبارت پڑھ کر سناتا ہوں اور اس عبارت سے متعلق گفتگو ہو گی کہ آپ کی مراد کیا ہے کیونکہ بسا اوقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات پڑھنے سے اس کا اصل یا زیادہ گہرا مضمون سمجھ نہیں آتا۔ایک مفہوم تو ہے جو سطح پر تیرتا ہے وہ تو ہر نظر دیکھ لیتی ہے لیکن بعض بطون ہیں نیچے اتر کر بعض چیزیں دیکھنی